Updated: August 20, 2026, 9:03 PM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش کی بی این پارٹی کے لیڈرمرزا فخرالاسلام عالمگیر نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں، ۷۸؍سالہ عالمگیر نے ریٹائرڈ آرمی کرنل اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اولی احمد کو شکست دی، جو جماعتِ اسلامی کی قیادت میں۱۱؍ جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے امیدوار تھے۔
بنگلہ دیش کے نو منتخب صدر مرزا فخرالاسلام عالمگیر۔ تصویر: ایکس
بنگلہ دیش کی سیاسی صورتِ حال میں بڑی تبدیلی کے بعد بی این پی کے لیڈر مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔ جمعرات۲۰؍ اگست کو بنگلہ دیشی قانون سازوں نے سابق صدر محمد شہاب الدین کے استعفیٰ کے بعد ہونے والے انتخابات میں معمر بی این پی لیڈر مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو ملک کا۲۳؍ واں صدر منتخب کیا، جس سے یہ طویل عرصے سے حزبِ اختلاف کے لیڈر سربراہِ مملکت بن گئے۔
یہ بھی پرھئے: اسرائیل: آسٹریلوی امدادی کارکن کی ہلاکت کی مجرمانہ تحقیق نہیں، آسٹریلیا ناراض
۷۸؍ سالہ عالمگیر نے ریٹائرڈ آرمی کرنل اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اولی احمد کو شکست دی، جو جماعتِ اسلامی کی قیادت میں۱۱؍ جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے امیدوار تھے۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے عالمگیر کو فاتح قرار دیا، انہوں نے پارلیمانی ووٹنگ میں ۲۵۵؍ ووٹ حاصل کیے جبکہ اولی احمد کو محض۸۸؍ ووٹ ملے۔ واضح رہے کہ بی این پی فروری میں دوبارہ برسرِ اقتدار آئی، جب کہ وہ برسوں تک حزبِ اختلاف میں رہی اور اگست۲۰۲۴ء میں شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ممکن ہوا۔ پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے۱۲؍ فروری کے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی، جس کے نتیجے میں بی این پی لیڈر طارق رحمن وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: بھاگوت کے دورے سے قبل USCIRF کا آر ایس ایس لیڈروں پر پابندی کا مطالبہ
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدارت زیادہ تر رسمی حیثیت رکھتی ہے، تاہم عالمگیر سربراہِ مملکت اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہوں گے، جبکہ انتظامی اختیارات وزیرِ اعظم اور کابینہ کے پاس رہیں گے۔ یہ صدارتی انتخاب گزشتہ ماہ محمد شہاب الدین کے طبی وجوہات کی بنا پر اپنی پانچ سالہ مدت مکمل ہونے سے قبل استعفیٰ دینے کے بعد ہوا۔ شہاب الدین، جو سابق عوامی لیگ سیاست دان اور حسینہ کے قریبی ساتھی تھے،۲۰۲۳ء میں اس وقت صدر منتخب ہوئے تھے جب ان کی جماعت برسرِ اقتدار تھی۔ یاد رہے کہ شیخ حسینہ اگست۲۰۲۴ء میں عوامی بغاوت کے بعد اپنی حکومت کا تختہ الٹنے پر بنگلہ دیش سے فرار ہوگئیں اور تب سے ہندوستان میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنا چاہتی ہیں۔
عالمگیر بی این پی کے طویل عرصہ سےلیڈر ہیں اور۲۰۱۶ء سے لے کر صدارت کے لیے نامزدگی تک پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے۔ حسینہ کے دورِ حکومت میں وہ حزبِ اختلاف کی سب سے نمایاں آوازوں میں سے ایک تھے اور انہیں بار بار گرفتاریوں اور متعدد قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔