Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان اسرائیلی فوجی ایتان گلبوع کے خلاف کارروائی کرے: ہند رجب فاؤنڈیشن

Updated: June 02, 2026, 8:03 PM IST | Gaza

غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزامات پر بلجیم کی ہند رجب فاؤنڈیشن نے اسرائیلی ریزرو فوجی ایتان گلبوع کے خلاف ہندوستان میں قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ گلبوع نے غزہ میں شہری عمارتوں کی تباہی میں حصہ لیا اور ان کارروائیوں کی ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آئیں۔

Israeli soldiers celebrate and videotape the destruction in Gaza. Photo: X
غزہ میں تباہی کے بعد اسرائیلی فوجی جشن مناتے ہوئے اور اس کا ویڈیو بناتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

ہند رجب فاؤنڈیشن(ایچ آر ایف)بلجیم میں قائم ایکتحقیقاتی تنظیم ہے جو غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی کوشش کرتی ہے۔ اس فاؤنڈیشن کا نام ہند رجب نامی پانچ سالہ فلسطینی بچی کی یاد میں رکھا گیا ہے، جو غزہ پٹی میں اسرائیلی فوج (IDF) کے حملے کے دوران ہلاک ہوگئی تھی۔ اس واقعے میں اس کے خاندان کے چھ افراد اور اسے بچانے آنے والے دو طبی امداد کارکن بھی مارے گئے تھے۔ فاؤنڈیشن نے کہا کہ اس نے ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں یہ ثابت کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ریزرو اہلکار ایتان گلبوع نے ذاتی طور پر غزہ میں پورے رہائشی بلاکس کو منظم طریقے سے مسمار کیا اور ان کارروائیوں کا جشن منایا، جو۱۹۶۰ء کے جنیوا کنونشن ایکٹ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان عالمی ڈجیٹل معیشت میں پانچویں اور اے آئی میں چوتھے مقام پر: سائیڈ ۲۰۲۶ء رپورٹ

فاؤنڈیشن کے مطابق:’’جنیوا کنونشن پر دستخط کنندہ ملک ہونے کے ناطے، ہندوستان آرٹیکل۱۴۶؍ کے تحت قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے، چاہے ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔ ‘‘تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریزرو فوجی اس وقت ہماچل پردیش کے ایک گاؤں میں موجود ہے۔ فاؤنڈیشن کے جنرل ڈائریکٹر، دیاب ابو جحجہ نے کہا:’’ایتان گلبوع کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے ہندوستان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا: ’’اس نے خود ایسی ویڈیوز شائع کی ہیں جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کے نام انتقامی اقدامات کے طور پر منسوب کرتا ہے۔ ویڈیوز میں اسے ایسے دھماکے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن سے پوری رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ہندوستان کو فوری طور پر اسے گرفتار کرنا چاہئے اور اپنی سرزمین کو ایسے افراد کیلئے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینا چاہئے جو شہریوں کی تباہی کا جشن مناتے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: سیٹیلائٹ تصاویر نے غزہ کی ہولناک تباہی دنیا کے سامنے رکھ دی

ایتان گلبوع کے خلاف الزامات
ایچ آر ایف کے پریس بیان کے مطابق:’’گلبوع غزہ میں اسرائیلی قبضے کے دوران پیدا ہوا تھا۔ اسرائیل کے انخلا کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ غزہ چھوڑ گیا۔ اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد گلبوع اور اس کے کئی بہن بھائی اسرائیلی فوج کے ساتھ دوبارہ غزہ واپس آئے۔ واپسی پر اس نے اپنے بچپن کی یادوں سے متعلق تصاویر بنائیں، جن میں وہ فلسطینی بچوں کے کھیل کے میدانوں اور کھلونوں کے ملبے کے درمیان کھڑا نظر آتا ہے۔ ‘‘بیان میں مزید کہا گیا:’’غزہ میں رہتے ہوئے گلبوع نے ان عمارتوں کی تباہی کی دستاویزات خود تیار کیں جنہیں اس نے مسمار کیا۔ اس نے خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کو گرانے کے احکامات دیتے، انہیں تباہ کرتے اور اس کا جشن مناتے ہوئے اپنی ویڈیوز بنائیں۔ بعد میں یہ ویڈیوز اس کی والدہ نے انسٹاگرام اور فیس بک پر شائع کیں۔ ان پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائیاں انتقامی جذبے کے تحت کی گئیں اور انہیں ہلاک شدہ اسرائیلی فوجیوں کے نام منسوب کیا گیا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: حج سیزن: مدینہ کی کھجور منڈی میں ۲۰؍ دن میں ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ ریال کی فروخت

ہند رجب فاؤنڈیشن کی سربراہ برائے قانونی چارہ جوئی، نتاشا براک نے کہا:’’ایتان گلبوع کے اقدامات، یعنی انتقام کی خاطر شہری گھروں کی منظم تباہی، ہندوستانی قانون کے تحت جنگی جرائم کی قانونی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔ جنیوا کنونشن ایکٹ کے تحت ہندوستان کے پاس اختیار بھی ہے اور ذمہ داری بھی کہ وہ ایتان گلبوع کو گرفتار کرکے اس پر مقدمہ چلائے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’حمص ٹریل‘‘ (Hummus Trail) یا وہ طویل سفری دورے جو اسرائیلی فوجی اپنی عسکری ذمہ داریوں کے بعد ذہنی سکون کیلئے کرتے ہیں، سزا سے بچ نکلنے کا ذریعہ نہیں بننے چاہئیں۔ اگر ہندوستان کارروائی نہیں کرتا تو وہ مظالم اور بے سزا رہنے کے اس سلسلے میں شریک سمجھا جائے گا۔ ‘‘یہ درخواست ایچ آر ایف کی عالمی قانونی حکمت عملی کا تازہ ترین حصہ ہے۔ تنظیم کے مطابق اس نے دنیا کے۳۰؍ مختلف ممالک میں ۹۰؍ سے زائد فوجداری شکایات دائر کی ہیں، جن کے نتیجے میں برازیل، رومانیہ، پیرو، بلجیم اورکنیڈا میں مختلف قانونی پیش رفتیں حاصل ہوئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK