Updated: September 02, 2026, 8:56 AM IST
| Islamabad
پاکستان کی ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قید تنہائی پر پابندی عائد کردی، ساتھ ہی اہل خاندن سے ملاقات اور فون کال کی بھی اجازت دی۔جسٹس خادم حسین سومرو نے اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت کی کہ وہ خان کو اخبارات اور کتابیں فراہم کریں اور جیل کے قواعد کے مطابق طبی سہولیات یقینی بنائیں۔ انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا کہ وہ ان ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور۱۵؍ دنوں کے اندر تعمیل رپورٹ جمع کروائیں۔
عمران خان، بشریٰ بی بی۔ تصویر: آئی این این
سابق وزیراعظم عمران خان، جو اس وقت جیل میں ہیں، کو بڑی ریلیف دیتے ہوئے پاکستان کی ایک عدالت نے ان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے لیے، جب کہ وہ اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں، مزید تنہائی قید پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے اڈیالہ جیل حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ جیل کے قواعد کے تحت خان کے ساتھ خاندانی ملاقاتوں میں سہولت فراہم کریں اور ان کے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے انتظامات کریں۔ واضح رہے کہ ۷۳؍ سالہ کرکٹر سے سیاستدان بنے خان اور ان کی اہلیہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بدعنوانی اور متعلقہ مقدمات میں طویل قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔خان کی بہن علیمہ خانم نے عدالت میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی کی تنہائی قید کے خلاف درخواست دائر کی تھی، جبکہ بشریٰ بی بی کی بیٹی مبارشا خاور مانیکا نے ان کے لیے ریلیف کی درخواست پیش کی تھی۔فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس خادم حسین سومرو نے اڈیالہ جیل حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ خان کو روزانہ اخبارات اور کتابیں فراہم کریں اور یقینی بنائیں کہ انہیں جیل کے قواعد کے مطابق طبی سہولیات میسر ہوں۔اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا گیا کہ وہ عدالت کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور۱۵؍ دنوں کے اندر تعمیل رپورٹ جمع کروائیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال پولیس نے ملبے سے ۵ء۱؍ کروڑ نقد اور۵۰؍ کروڑ کاسونا برآمد کیا
یاد رہے کہ عدالت نے اس سے قبل۶؍ اگست کو خان کی بہن علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کی بیٹی مبارشا خاور مانیکا کی علیحدہ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔عمران خان اگست۲۰۲۳ء سے جیل میں ہیں جب انہیں سزائیں سنائی گئیں، جنہیں وہ اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی سیاسی طور پر متحرک قرار دیتے ہیں۔ ان کے حامیوں اور رشتہ داروں نے بارہا الزام لگایا ہے کہ حکام نے ان کی خاندان کے ارکان تک رسائی اور مناسب طبی دیکھ بھال کو محدود کر دیا ہے۔ جبکہ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
عمران کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو پہلی بار۳۱؍ جنوری ۲۰۲۴ءکوبد عنوانی سے متعلق ایک مقدمے میں سزا کے بعد جیل بھیجا گیا تھا، اور تقریباً نو ماہ جیل میں رہنے کے بعد۲۴؍ اکتوبر کو ضمانت پر رہا کر دی گئی تھیں۔انہیں۱۷؍ جنوری۲۰۲۵ء کو جب ایک اور کرپشن مقدمے میں سزا سنائی گئی تو دوبارہ گرفتارکر لیا گیا اور وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں، جہاں انہیں مزید مقدمات میں اضافی سزائیں بھی ہوئی ہیں۔ جبکہ پچھلے مہینے پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ خان کو نجی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرے، اس دوران ان کے خاندان اور حامیوں نے کئی مہینوں سے ان کی صحت، خاص طور پر اس سال کے شروع میں تشخیص کی گئی آنکھ کی بیماری پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔تاہم۲۰ ؍ -۲۱؍ اگست کی رات، خان کو شفا اسپتال کی بجائے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں طبی طریقہ کار اور تشخیصی جانچ کے لیے داخل کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔ بعد ازاں ان کے خاندان نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا اور استدلال کیا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ خان اگلی سماعت۱۶؍ ستمبر تک اسلام آباداسپتال میں زیر علاج رہیں۔ تاہم حکومت نے حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں PIMS لے جانے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال
دریں اثنا؍توہین عدالت کی درخواست ۱۶؍ ستمبر کو جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان، اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ یہی بینچ خان کی صحت اور خاندانی ملاقاتوں سے متعلق زیر التواء مقدمات کی سماعت بھی کرے گا۔