Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان نے جناح کی مہلک بیماری کو خفیہ رکھنےوالے ممبئی کے دو ڈاکٹروں کو ’نشانِ امتیاز‘ اعزاز سےنوازا

Updated: August 20, 2026, 10:14 PM IST | Islamabad

پاکستان کے پہلے گورنر جنرل/صدر محمد علی جناح تقسیم کے وقت تپِ دق (ٹی بی) کے مرض میں مبتلا تھے جس نے ان کے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ ڈومینیک لاپیئر اور لیری کولنز کی ۱۹۷۵ کی کتاب ”فریڈم ایٹ مڈنائٹ“ (Freedom at Midnight) کے مطابق، اگر برطانوی ہند کے آخری وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کو جناح کی مہلک بیماری کے بارے میں معلوم ہوتا، تو وہ شاید اقتدار کی منتقلی کو مؤخر کر دیتے، جس سے ممکنہ طور پر تاریخ کا دھارا بدل سکتا تھا۔

Muhammad Ali Jinnah. Photo: X
محمد علی جناح۔ تصویر: ایکس

پاکستان نے تقسیم سے قبل کے برسوں میں محمد علی جناح کی مہلک بیماری کو خفیہ رکھنے والے ممبئی کے دو پارسی ڈاکٹروں کو بعد از مرگ اپنے سب سے بڑے شہری اعزاز ’نشانِ امتیاز‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ جناح کے معالج جل رتن جی پٹیل اور ریڈیولوجسٹ جل ڈیبو کو پاکستان کابینہ کی ایوارڈز کی سرکاری فہرست میں نامزد کیا گیا ہے۔ پارسی برادری کے کچھ افراد کا خیال ہے کہ Daeboo دراصل کنیت Deboo کا غلط املا ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے پہلے گورنر جنرل/صدر محمد علی جناح تقسیم کے وقت تپِ دق (ٹی بی) کے مرض میں مبتلا تھے جس نے ان کے پھیپھڑوں کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ پاکستان کے قیام کے محض ایک سال بعد ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ کو جناح کا انتقال ہوا۔ ڈومینیک لاپیئر اور لیری کولنز کی ۱۹۷۵ کی کتاب ”فریڈم ایٹ مڈنائٹ“ (Freedom at Midnight) کے مطابق، اگر برطانوی ہند کے آخری وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کو جناح کی مہلک بیماری کے بارے میں معلوم ہوتا، تو وہ شاید اقتدار کی منتقلی کو مؤخر کر دیتے، جس سے ممکنہ طور پر تاریخ کا دھارا بدل سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: حلب: ۹۱؍ سالہ کتاب فروش، ۴۰؍ برس میں ۱۰؍ لاکھ نایاب و فراموش شدہ کتب جمع کیں

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ماؤنٹ بیٹن نے بعد میں اعتراف کیا تھا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ جناح کتنے شدید بیمار ہیں تو شاید وہ تقسیم کو مؤخر کر دیتے۔ اقبال نے لکھا کہ ”ایسے نازک موڑ پر مکمل پیشہ ورانہ رازداری کو برقرار رکھ کر، ان ڈاکٹروں نے ایک خاموش لیکن غیر معمولی خدمت انجام دی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اس رازداری نے ”غیر ارادی طور پر ان حالات میں ایک اہم کردار ادا کیا جنہوں نے قیامِ پاکستان کو ممکن بنایا۔“

لاپیئر اور کولنز کے مطابق، ڈاکٹر پٹیل نے ۱۹۴۶ء میں جناح میں دائمی ٹی بی کی تشخیص کی تھی اور انہیں متنبہ کیا تھا کہ اگر انہوں نے اپنے کام کے بوجھ میں نمایاں کمی نہ کی، زیادہ آرام نہ کیا اور سگریٹ نوشی اور شراب نوشی نہ چھوڑی، تو ان کے پاس زندہ رہنے کیلئے صرف ایک یا دو سال ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جناح نے اس مشورے پر عمل کرنے سے انکار کر دیا اور پٹیل سے ہر دو ہفتے بعد خفیہ انجیکشن لگواتے ہوئے مسلسل کام کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: ۳۵؍ سال بعد پہلی بار صدارتی انتخابات کے لیے رائےدہی، کس کی فتح ہوگی؟

واضح رہے کہ تقسیمِ ہند نے تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی کو جنم دیا تھا جس میں لاکھوں ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں نے نئی کھینچی گئی ہندوستان-پاکستان سرحد کو عبور کیا، جس کے ساتھ ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اور تشدد میں ۲ سے ۱۰ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK