Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان میں نیویارک ٹائمز کا مضمون سینسر، شیعہ ردعمل پر رپورٹ ہٹانے سے تنازع

Updated: April 25, 2026, 10:07 PM IST | Islamabad

پاکستان میں The New York Times کے ایک اہم مضمون کو پرنٹ ایڈیشن سے ہٹا دیا گیا، جس میں مغربی ایشیا کی جنگ کے تناظر میں شیعہ برادری کے ردعمل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ یہ اقدام مقامی اشاعتی شراکت دار کی جانب سے کیا گیا، جس پر صحافتی حلقوں نے سخت تنقید کی۔ اس واقعے نے میڈیا آزادی، فرقہ وارانہ حساسیت اور ریاستی بیانیے کے درمیان پیچیدہ تعلقات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

Pakistan`s Army Chief Asim Munir. Photo: INN
پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر۔ تصویر: آئی این این

پاکستان میں ایک بار پھر میڈیا سینسرشپ کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں The New York Times کے ایک مضمون کو ملک میں شائع ہونے سے روک دیا گیا۔ یہ رپورٹ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور اس کے پاکستان کی شیعہ برادری پر اثرات سے متعلق تھی، لیکن جب اخبار کی کاپیاں تقسیم ہوئیں تو متعلقہ صفحہ خالی چھوڑ دیا گیا۔ خالی جگہ کے نیچے ایک مختصر وضاحت شامل کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مضمون کو پاکستان میں اشاعتی شراکت دار نے ہٹا دیا ہے اور اس فیصلے میں اخبار کے ادارتی عملے کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اطلاعات کے مطابق، یہ اقدام اس مواد کی حساس نوعیت کے باعث کیا گیا، جو ملک کے اندر فرقہ وارانہ اور سیاسی مباحث کو متاثر کر سکتا تھا۔

آن لائن دستیاب رپورٹ میں اس بات کا جائزہ لیا گیا تھا کہ پاکستان ایک جانب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر شیعہ برادری میں بے چینی اور غصے کے احساسات بھی پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں شیعہ آبادی تقریباً ۱۵؍ فیصد ہے اور یہ کمیونٹی ماضی میں شدت پسند حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ مضمون میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جاری علاقائی جنگ ملک کے لیے ایک بڑا داخلی چیلنج بن سکتی ہے، جو پہلے ہی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کی قلت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اس کے علاوہ، فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
اس سینسرشپ پر پاکستانی صحافیوں اور مبصرین نے فوری ردعمل دیا اور اسے آزادیٔ صحافت کے لیے ایک تشویشناک قدم قرار دیا۔ کئی صحافیوں نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ عوام کو اہم اور حساس معاملات سے متعلق معلومات تک رسائی سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نیویارک ٹائمز کے مواد کو پاکستان میں محدود کیا گیا ہو۔ ماضی میں بھی بعض رپورٹس، خاص طور پر قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی سے متعلق موضوعات پر، جزوی یا مکمل طور پر ہٹائی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ’’ہیل ہول‘‘ بیان پر ایران کا ہندوستان میں طنزیہ سفارتی جواب

پاکستان کی داخلی سیاست اور فرقہ وارانہ حرکیات اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بعض بیانات اور واقعات نے شیعہ برادری کے اندر ردعمل کو بڑھایا ہے، جبکہ ریاستی سطح پر علاقائی پالیسیوں میں تبدیلی بھی واضح نظر آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے اقدامات نہ صرف میڈیا آزادی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ جمہوری مباحثے اور عوامی شعور پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، کیونکہ معلومات تک محدود رسائی ایک متوازن رائے قائم کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK