پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کو واجب الادا ۴۵ء۳؍ارب امریکی ڈالر کے تمام ڈپازٹس واپس کر دیے ہیں، جس کی تصدیق جمعہ کو ملک کے مرکزی بینک نے کی۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 5:03 PM IST | Karachi
پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کو واجب الادا ۴۵ء۳؍ارب امریکی ڈالر کے تمام ڈپازٹس واپس کر دیے ہیں، جس کی تصدیق جمعہ کو ملک کے مرکزی بینک نے کی۔
پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کو واجب الادا ۴۵ء۳؍ارب امریکی ڈالر کے تمام ڈپازٹس واپس کر دیے ہیں، جس کی تصدیق جمعہ کو ملک کے مرکزی بینک نے کی۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کی بیرونی مالیاتی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر جاری معاشی دباؤ کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق آخری ادائیگی جمعرات کو مکمل کی گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ۲۳؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ابو ظہبی فنڈ فار ڈیولپمنٹ (اے ڈی ایف ڈی ) (ADFD)، متحدہ عرب امارات کو ایک ارب امریکی ڈالر کا ڈپازٹ واپس کیا۔ گزشتہ ہفتے۴۵ء۲؍ ارب ڈالر پہلے ہی ادا کیے جا چکے تھے۔ اس طرح متحدہ عرب امارات کو مجموعی طور پر ۴۵ء۳؍ ارب ڈالر کے تمام ڈپازٹس کی واپسی مکمل ہو گئی ہے۔
یہ ادائیگی اس کے فوراً بعد سامنے آئی جب پاکستان کو سعودی عرب سے۳؍ ارب ڈالر کی مالی امداد موصول ہوئی۔ یہ رقم دو اقساط میں دی گئی، جن میں سے دوسری قسط ایک ارب ڈالر ۲۱؍ اپریل کو ملی۔رپورٹس کے مطابق، مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر رقوم کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیم راجستھان کے قلعہ میں نقب لگانے اترے گی
یہ ڈپازٹس ۲۰۱۹ء میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کو بیرونی مالی معاونت کے طور پر فراہم کیے گئے تھے تاکہ ملک کے ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کیا جا سکے، جیسا کہ اخبار ڈان نے رپورٹ کیا۔ مارچ میں اسلام آباد اس ۵ء۳؍ ارب ڈالر کی سہولت کو آگے بڑھانے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہا، جو گزشتہ سات برسوں میں پہلی ایسی ناکامی تھی، جس سے قریبی مدت کی مالی ضروریات کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:مائیکل جیکسن کی بایوپک کو خراب ریویوز کے بعد ۹۶؍ فیصد آڈیئنس ریٹنگ مل گئی
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی دباؤ کا شکار ہیں، تاہم ملک آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت وسیع تر معاشی استحکام کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق بیرونی مالی خطرات بدستور ایک بڑی کمزوری ہیں، خاص طور پر غیر مستحکم توانائی قیمتوں اور عالمی سرمایہ منڈیوں کی سخت صورتحال کے پیش نظر۔