Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک میں پاکستانی سینیٹر رانا محمود الحسن کی ہندوستان مخالف تقریر پر ہنگامہ

Updated: May 20, 2026, 6:05 PM IST | New York

نیویارک میں پاکستان پیپلز پارٹی یو ایس اے کے زیرِ اہتمام منعقدہ ’’معرکۂ حق‘‘ تقریب میں پاکستانی سینیٹر رانا محمود الحسن کی ہندوستان مخالف تقریر نے سوشل میڈیا پر شدید تنازع کھڑا کر دیا۔ تقریر کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد امریکی صحافی ایمی میک سمیت متعدد حلقوں نے اسے اشتعال انگیز اور امریکہ میں پاکستانی بیانیے کی تشہیر قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

Rana Mahmoodul Hassan giving a speech. Photo: X
رانا محمود الحسن تقریر کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

پاکستانی سینیٹر رانا محمود الحسن کی نیویارک شہر میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) یو ایس اے کے ایک پروگرام میں کی گئی تقریر نے شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے، جب اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ اس تقریر میں ہندوستان مخالف سخت بیانات، کشمیر کا بار بار ذکر، اور۲۰۲۵ء کی ہند-پاک کشیدگی کے دوران پاکستانی فوجی ردعمل کی تعریف شامل تھی، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب امریکہ میں مقیم سیاسی مبصر اور صحافی ایمی میک نے۱۹؍مئی کو ایک طویل ایکس تھریڈ شیئر کیا، جس میں انہوں نے اس خطاب کو ’’امریکی سرزمین پر پاکستان کی جانب سے براہِ راست دھمکی‘‘ قرار دیا۔ 

پاکستانی سینیٹر کی ہندوستان مخالف تقریر پر ہنگامہ
ایمی میک کے مطابق ’’معرکۂ حق‘‘ کے عنوان سے یہ تقریب یو ایس اے پی پی پی چیپٹر نے منعقد کی تھی جس میں مبینہ طور پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان فوجی کشیدگی کو جشن کے طور پر پیش کیا گیا۔ پاکستان کے سینیٹر رانا محمود الحسن، جو اس وقت سینیٹ کے رکن ہیں اور پی پی پی سے وابستہ ہیں، نے تقریب سے خطاب کیا۔ وہ ۲۰۲۴ء میں پی پی پی میں شامل ہونے سے پہلے پاکستان مسلم لیگ نواز (PML-N) کا حصہ تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستانی سیاستدان تقریباً ایک گھنٹے تک جذباتی انداز میں خطاب کرتے رہے، جس میں بار بار ہندو ستان کو نشانہ بنایا گیا اور پاکستانی فوج اور سیاسی قیادت کی تعریف کی گئی۔ ایمی میک کے وائرل ایکس تھریڈ کے مطابق، تقریر میں ’کھلے عام تباہی کی دھمکیاں، ہندوستان کو کچلنے کے دعوے، اور کشمیر کے حل تک ہر محاذ پر لڑنے کی باتیں ‘ شامل تھیں۔ 

سینیٹر نے کیا کہا؟
تقریر کے کئی حصے اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ ایک حصے میں رانا محمود الحسن نے مبینہ طور پر پاکستان کی آبادی میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک دن پاکستان آبادی کے لحاظ سے امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ اس کے بعد انہوں نے تقریر کا ایک انتہائی متنازع جملہ کہا:’’نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے ہندوستان والو... ...تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ ‘‘اس تقریر میں کشمیر کے معاملے پر جارحانہ بیانات بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا:’’کشمیر کا مسئلہ جب تک حل نہیں ہوگا، ہم ہر محاذ پر لڑیں گے۔ ‘‘وائرل کلپس میں انہیں ہندوستانی سفارتکاروں کا مذاق اڑاتے اور پاکستانی فوجیوں کی تعریف کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جو مبینہ طور پر جنگ کی تیاری کر رہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کرنے کا اعلان

وائرل سوشل میڈیا پوسٹ پر ردعمل
یہ معاملہ اس وقت سوشل میڈیا پر مزید پھیل گیا جب ایمی میک نے ایکس پر تقریر کے ویڈیو کلپس اور ان کے تراجم شیئر کئے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی سینیٹر ’امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایسی سیاسی تقریبات کو امریکی سرزمین پر کیوں اجازت دی جا رہی ہے۔ ایمی میک نے لکھا:’’یہ کوئی امریکی سینیٹر نہیں بلکہ پاکستان کی حکومت کا ایک سینئر نمائندہ ہے، جو ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتا ہے جس پر دہشت گردی برآمد کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، اور وہ امریکی سرزمین پر کھڑے ہو کر امریکہ کے جمہوری اتحادی ہندوستان کو کھلی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ‘‘انہوں نے اپنی پوسٹ میں امریکی محکمہ خارجہ، ہوم لینڈ سیکوریٹی، ایف بی آئی اور امریکی صدر سمیت کئی اداروں اور عہدیداروں کو بھی ٹیگ کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹر کے خلاف کارروائی کی جائے اور لکھا:’’امریکہ کو ہندوستان کے خلاف پاکستان کی دھمکیوں کا لانچنگ پیڈ نہیں بننا چاہئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم مودی اٹلی پہنچے، جارجیا میلونی نے میرے دوست کہہ کرمخاطب کیا

ان کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کئی صارفین نے پاکستانی سیاسی شخصیات کے امریکہ میں داخلے پر سخت نگرانی کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض نے سینیٹر کو ملک بدر کرنے یا قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ ’’معرکۂ حق‘‘ تقریب بظاہر ۲۰۲۵ءکے ہند-پاک تنازع سے متعلق پاکستان کے بیانیے سے جڑی ہوئی تھی۔ پاکستان نے اس کشیدگی کو ایک بڑی فوجی اور سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا، جبکہ ہندوستان نے اس کے نتائج کے حوالے سے اپنا الگ مؤقف اختیار کیا۔ تقریب میں کشمیر اور پاکستان کی مسلح افواج کا بار بار ذکر بھی کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK