• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی آئی پر فیس سے تاجر برہم، نقد لین دین کو ترجیح دینے کا اعلان کیا

Updated: September 17, 2026, 12:59 PM IST | Agency | Mumbai /New Delhi

۱۵؍ اکتوبر سے نفاذ مگر ابھی سےکئی دکانوں نےآن لائن ادائیگی کے بورڈ ہٹانے شروع کردیئے، تنظیموں نے کہا : پہلے ہی ٹرانزیکشن چارج اور ۱۸؍ فیصد جی ایس ٹی ادا کررہے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴؍فیصد فیس عائد کرنے کے مودی سرکار کے فیصلے سے تاجروں اور ان کی تنظیموں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نقد لین دین کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر منظر عام پر آنےوالے ویڈیوز کے مطابق کئی دکانداروں خاص طور سے ریسٹورنٹس  اور وہ تاجر جن  کے ہاں  لین دین عام طو رپر ۲؍ ہزاریا اس سے زیادہ کی ہوتی ہے، ’’یوپی آئی ادائیگی‘‘ کے بورڈس ہٹارہے ہیں۔ 

نقد ادائیگیوں کی حوصلہ آفزائی کافیصلہ 

  دہلی کے کملا نگر مارکیٹ اسوسی ایشن کے صدر نتن گپتا نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہ تاجروں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کی حکومت کی کوششوں کی حمایت کی تھی لیکن  انہیں اضافی چارج برداشت کرنا پڑا تو وہ نقد لین دین کو ترجیح دیں گے اور اسی کی حوصلہ افزائی کریں گے۔گپتا نےنشاندہی کی کہ ’’ہم پہلے ہی ٹرانزیکشن چارجز اور۱۸؍فیصد جی ایس ٹی ادا کر رہے ہیں۔ اب اگر حکومت ہم سے یو پی آئی  پر ایم ڈی آر (مرچنٹ ڈسکاؤٹ ریٹ) بھی وصول کرے گی تو ہم نقد ادائیگیوں کو فروغ دیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے  دکانداروں اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ صارفین سے یوپی آئی کے بجائے نقد ادائیگیوں کی درخواست کریں کیوں کہ نئے چارج کو قبول کرنے سے مستقبل میں شرح میں اضافے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ناگپور میں سی جی پی سربراہ ابھیجیت دِپکے کی پریس کانفرنس، ’’قبائلی اسکول ٹھیک کرو‘‘مہم کا آغاز

منافع اور  لاگت پر اثر

نئی دہلی ٹریڈرس اسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری امیت گپتا نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات چیت میں کہا کہ اضافی چارج سے ان تاجروں کیلئے یو پی آئی ادائیگیاں مہنگی ہوجائیں گی جو پہلے ہی بہت کم منافع پر کاروبار کررہے ہیں۔‘‘انہوں نے  بھی کہاکہ’’اگر اب۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین پر تاجروں  سے اضافی چارج ادا کرنے کو کہا جائے گا تو ان میں سے بہت سے نقد ادائیگیوں کو ترجیح دیں گے۔  اضافی لاگت تاجروں پر عائد نہیں کی جانی چاہیے۔‘‘

چیک کے ذریعہ ادائیگیوں پر بھی غور

خان مارکیٹ اسوسی ایشن کے صدر سنجیو مہرا نے کہا کہ تاجر پہلے ہی کریڈٹ کارڈ  پر  ایم ڈی آر کی مخالفت کررہے تھے،اب یو پی آئی  پر بھی چارج  دیناپڑے گا۔ مہرا نے بھی  اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ’’ اگر یو پی آئی لین دین پر چارج عائد کیا گیا تو ہم نقد ادائیگیوں  کو فروغ دیں گے‘‘، کہا کہ ’’ ہول سیل اور دیگر کاروباری اداروں کو بڑی ادائیگیوں کیلئے تاجر چیک اور بینک ٹرانسفر کے دیگر ذرائع استعمال کرنے پر بھی غور کریں گے۔‘‘

دہلی یونیورسٹی  کے کالجوں  کے قریب دکانوں پر طلبہ آتے ہیں اور ان میں سے کچھ ۱۰-۲۰؍ روپے کی اشیا بھی خریدتے ہیں۔ اب ہم ان سے ایک پیسہ بھی اضافی نہیں مانگ سکتے لیکن ہم جی ایس ٹی اور دیگر چارجز ادا کرتے ہیں، اب ہم سے یو پی آئی پر بھی چارج کی توقع ہے۔‘‘

رجت جین | رٹیل دکاندار، دہلی

یہ بھی پڑھئے:کل این ایس ای، آئی پی او، زبردست دلچسپی اور مانگ

اس اقدام سے چھوٹے، درمیانے اور تھوک تاجروں کی لاگت بڑھے گی، کیونکہ وہ۲؍  ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگیاں  بڑی  تعداد میں  وصول کرتے ہیں۔‘‘

پرمجیت پمّا  |  صدر،صدر بازاراسوسی ایشن 

تاجروں کی لاگت بڑھنے کا اثر بالآخر صارفین پر  ہی پڑےگا۔ اگر تاجروں کو بہت زیادہ چارجز ادا کرنے پڑے تو وہ یہ رقم ہم سے  ہی  وصول کریں گے۔ اس طرح نہ صرف تاجروں بلکہ صارفین کو بھی پریشانی ہوگی۔‘‘

کپل اروڑہ  |  صارف

 این پی سی آئی  جو یو پی آئی کو چلاتی ہے،  کی بیلنس شیٹ میں۶؍ ہزار ۱۱۹؍کروڑ روپے موجود ہیں۔ اس کا آپریٹنگ منافع۱۹۰۰؍ کروڑ روپے ہے۔ این پی سی آئی اپنی نقد رقم اور منافع سے زندگی بھر یو پی آئی کو مفت چلا سکتی ہے۔ حکومت کا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔ حکومت نے گزشتہ سال این پی سی آئی سے ایک ہزار  کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا تھا۔‘‘ اشنیر گروور| سابق ایم ڈی، فون پے

 یوپی آئی کا نیا نظام ایک نظر میں

 انفرادی لین دین( ایک سے دوسرے شخص کو)  اب بھی مفت رہےگا۔

دکاندار اور تاجر  سے ۲؍ ہزار تک کی ادائیگی پر کوئی فیس نہیں لی جائیگی۔

۲؍ ہزار  سے زائد ہر لین دین پر دکاندار کو ۰ء۴؍فیصد ادا کرنا ہوگا۔

۷۵؍ ہزار یا اس سے زیادہ کے ہر لین دین پر ۳۰۰؍ روپے۔

ریلوے، ٹیلی کام، انشورنس،  پیٹرول پمپ جیسی منتخب کیٹیگریز میں ۲؍ ہزار سے زیادہ کی ادائیگی پر فی ادائیگی ۵؍ روپے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK