Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین: حماس کا وسیع تراتحاد کے تحت انتخابات میں شمولیت کا اعلان

Updated: August 13, 2026, 9:30 PM IST | Gaza

حماس نے اعلان کیا ہے کہ رہ وسیع تر اتحاد کے تحت فلسطینی انتخابات میں حصہ لے گی، ساتھ ہی امیدواروں پر سیاسی شرائط عائد کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔

Palestinian President Mahmoud Abbas. Image: X
فلسطینی صدر محمود عباس۔ تصویر: ایکس

حماس کے سینئر لیڈر حسام بدران نے کہا کہ تنظیم آئندہ فلسطینی انتخابات میں ممکنہ حد تک وسیع قومی اتحاد کے تحت حصہ لے گا، اور امیدواروں پر سیاسی شرائط عائد کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا، جبکہ صدر محمود عباس نے نومبر۲۰۲۶ء کے لیے قانون ساز انتخابات کا شیڈول جاری کیا ہے۔الاقصیٰ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بدران نے کہا کہ حماس اور بیشتر فلسطینی دھڑے شرکاء پر مخصوص سیاسی پروگرام اپنانے کی شرط عائد کرنے کے مخالف ہیں۔ انہوں نے بتایا  کہ فلسطینی مرکزی انتخابی کمیشن اور عدلیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ فلسطینی اپنے نمائندوں کا انتخاب آزادی سے کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کی تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا کام شروع

بعد ازاں بدران نے کہا، ’’ہم سیاسی شرائط عائد کرنے یا شرکاء کو کسی مخصوص سیاسی پروگرام کو اپنانے کی ضرورت کے مخالف ہیں،‘‘ اور زور دیا کہ انتخابی دیانت داری کے لیے ایک کھلا میدان درکار ہے جس میں کوئی نظریاتی پیشگی شرط نہ ہو۔مزید برآں بدران نے انتخابات کو فلسطینی سیاسی منظرنامے کو نئی شکل دینے اور ان کے الفاظ میں قومی معاملات پر دو دہائیوں کے یکطرفہ فیصلہ سازی کو ختم کرنے کا تاریخی موقع قرار دیا۔تاہم انہوں نے موجودہ فلسطینی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ آنے والے انتخابات کے وقت اور طریقہ کار کا یکطرفہ تعین کر رہی ہے۔انہوں نے موجودہ طریقہ کار کا موازنہ۲۰۰۶ء اور ۲۰۲۱ء کے انتخابات سے کیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تفصیلی قومی اتفاق رائے کے بعد ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’انتخابات بہت تاخیر سے ہو رہے ہیں،‘‘ اور استدلال کیا کہ قیادت نے نومبر۲۰۲۶ء کی تاریخ طے کرنے میں اجتماعی مشاورت کو نظرانداز کیا۔
واضح رہے کہ صدر عباس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ قانون ساز انتخابات۲۸؍ نومبر۲۰۲۶ء کو ہوں گے، اس کے بعد نیشنل کونسل کا اجلاس اور۲۰۲۷ء میں صدارتی انتخابات ہوں گے۔ بدران نے زور دیا کہ فلسطینیوں کو اپنی قیادت کے انتخاب کا ’’فطری حق‘‘ حاصل ہے، چاہے وہ قانون ساز انتخابات کے ذریعے ہو یا فلسطینی نیشنل کونسل کے ذریعے، جسے انہوں نے ’’فلسطینیوں کا وسیع تر نمائندہ ادارہ‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ رسمی طرز عمل سے آگے بڑھے: فلسطینی سفیر

ذہن نشین رہے کہ فلسطینی قانون ساز کونسل۲۰۰۷ء سے غیر فعال ہے، جب سیاسی تقسیم اور حماس کے غزہ کی پٹی پر قبضے کے بعد جہاں اسرائیل اکتوبر۲۰۲۳ء سے جنگ لڑ رہا ہے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ عباس نے۲۰۱۸ء میں کونسل کو تحلیل کر دیا، اور آخری قانون ساز انتخابات۲۰۰۶ء میں ہوئے تھے، جس سے نظام حماس کے زیرِ انتظام غزہ اور فتح کے زیرِ کنٹرول مغربی کنارے کے درمیان تقسیم ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK