گیلپ سروے کے نتائج امریکی عوام میں اسرائیل کیلئے حمایت میں ڈرامائی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تقریباً ۱۰ میں سے ۶ امریکی بالغ افراد اب اسرائیل کی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 01, 2025, 6:42 PM IST | Washington
گیلپ سروے کے نتائج امریکی عوام میں اسرائیل کیلئے حمایت میں ڈرامائی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تقریباً ۱۰ میں سے ۶ امریکی بالغ افراد اب اسرائیل کی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں۔
ایک حالیہ گیلپ پول کے مطابق، غزہ میں جاری اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کیلئے امریکی بالغوں کے درمیان عوامی حمایت میں تیزی سے کمی آئی ہے اور اب صرف تقریباً ایک تہائی لوگ فوجی مہم کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اکتوبر ۲۰۲۳ء کے مقابلے اسرائیل کیلئے امریکی عوام کی حمایت میں زبردست کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ حماس کے حملوں کے بعد تقریباً نصف امریکیوں نے اسرائیل کے حملے کی حمایت کی تھی۔
یہ سروے، غزہ میں بڑے پیمانے پر قحط اور بھکمری کی اطلاعات کے درمیان سامنے آیا ہے جو اسرائیل کی خوراک اور انسانی امداد پر پابندیوں کے تئیں بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کو ہوا دے رہی ہیں۔ یہ سروے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ میں ”حقیقی بھکمری“ کے حالیہ اعتراف اور علاقے میں فوڈ سینٹرز قائم کرنے کے ان کے عہد سے پہلے کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ۷ سے ۲۱ جولائی کے درمیان کئے گئے اس سروے کے نتائج امریکی عوام میں اسرائیل کیلئے حمایت میں ڈرامائی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تقریباً ۱۰ میں سے ۶ امریکی بالغ افراد اب اسرائیل کی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں جو نومبر ۲۰۲۳ء میں ۴۵ فیصد سے زیادہ ہے۔
ڈیموکریٹس اور نوجوان بالغوں میں مخالفت میں گہرائی
گیلپ سروے کے نتائج، امریکہ میں بڑھتے ہوئے سیاسی پولرائزیشن کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے جنگ کی حمایت کرنا بند کردیا ہے، صرف ۸ فیصد ڈیموکریٹس اسرائیل کے فوجی حملے کی حمایت کررہے ہیں۔ آزاد امیدواروں میں، صرف ایک چوتھائی اسرائیلی کارروائیوں کے حامی ہیں۔ اس کے برعکس، ریپبلکنز بڑی حد تک اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔
سروے کے نتائج میں عمر بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نوجوان امریکیوں نے اسرائیل پر شدید تنقید کی۔ ۳۵ سال سے کم عمر تقریباً ۱۰ میں سے صرف ایک بالغ، غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ ۵۵ سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً نصف افراد اسرائیل کے حامی ہیں۔ گیلپ کی سینئر ایڈیٹر میگن برینان نے نوٹ کیا کہ یہ اعداد و شمار تنازع کے متعلق رویوں میں نسلی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔
نیتن یاہو کی دہائیوں میں سب سے کم ریٹنگ
سروے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی بدترین ریٹنگ ریکارڈ کی گئی جب سے گیلپ نے ۱۹۹۷ء میں ان کی مقبولیت کو ٹریک کرنا شروع کیا ہے۔ تقریباً ۵۲ فیصد امریکی اب نیتن یاہو کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں جبکہ صرف ۲۹ فیصد انہیں مثبت طور پر دیکھتے ہیں۔ ۱۰ میں سے ۲ یا تو کوئی رائے نہیں رکھتے یا ان سے ناواقف ہیں۔ برینان نے کہا کہ”ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت نیتن یاہو کے بارے میں منفی رائے رکھتی ہے۔ “ انہوں نے مزید کہا کہ اعداد و شمار ”ہر لحاظ سے ایک ہی کہانی بیان کرتے ہیں اور یہ اسرائیلی حکومت کیلئے اچھی نہیں۔ “