• Tue, 13 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگریس لیڈر منی شنکر ایئر کے ہندوتوا پر تنقیدی تبصروں کے بعد سیاسی طوفان، بی جے پی کا سخت ردعمل

Updated: January 12, 2026, 9:53 PM IST | Kolkata

ہندو مت اور ہندوتوا کے درمیان نظریاتی فرق کو واضح کرنے کے لیے ایئر نے گاندھی اور ساورکر کے متصادم عالمی نظریات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی کا ہندومت عدم تشدد اور اخلاقی ضبط پر مبنی تھا، جبکہ ساورکر کا ہندوتوا کا تصور سیاسی بالادستی اور محاذ آرائی کو ترجیح دیتا تھا۔

Mani Shankar Aiyar. Photo: INN
منی شنکر ایئر۔ تصویر: آئی این این

کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر نے اتوار کے دن کولکاتا میں ایک عوامی مباحثہ کے دوران ہندوتوا کو ’’وہم اور خوف میں مبتلا ہندومت‘‘ (Hinduism in a state of paranoia) قرار دیا۔ ان کے اس تبصرے کے بعد ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ ’کلکتہ ڈیبیٹنگ سرکل‘ کے زیرِ اہتمام ایک فورم بعنوان ’’ہندومت کو ہندوتوا سے تحفظ کی ضرورت ہے،‘‘ میں کئےگئے ایئر کے تبصروں پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے، جبکہ بعض اپوزیشن لیڈران نے کانگریس لیڈر کی حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چھتیس گڑھ: ہیڈ مسٹریس کو امتحانی سوال میں کتے کے نام کیلئے ’رام‘ کا متبادل دینے پر معطل کردیا گیا

’’۸۰؍ فیصد ہندوؤں کو ۱۴؍ فیصد مسلمانوں سے ڈرایا جا رہا ہے‘‘

مباحثہ کے دوران ایئر نے دعویٰ کیا کہ ہندوتوا، ہندو اکثریت کے اندر خوف پیدا کر کے کام کرتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ نظریہ ایک ایسا بیانیہ پیش کرتا ہے جس میں ’’۸۰؍ فیصد ہندوؤں کو ۱۴؍ فیصد مسلمانوں سے ڈرایا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ طرزِ عمل سماجی عدم تحفظ اور مذہبی بنیادوں پر سماجی تقسیم کو گہرا کرتا ہے۔ ایئر کے مطابق، خوف پر مبنی یہ سیاست ہندومت کی کثرت پسندی، مکالمے اور بقائے باہمی پر مبنی تاریخی اہمیت کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندومت، ایک قدیم عقیدے کے طور پر، اپنی بقاء کے لیے ہندوتوا کی ضرورت رکھتا ہے اور نہ ہی اس پر منحصر ہے۔ انہوں نے ہندومت کو ایک وسیع روحانی اور فلسفیانہ روایت قرار دیا جس نے صدیوں کی سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کا مقابلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، ہندوتوا ۲۰؍ ویں صدی کے اوائل میں ابھرنے والا نسبتاً جدید سیاسی نظریہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تریپورہ میں مندر کیلئے عطیہ نہ دینے پر مسجد ،مسلمانوں کی دکانیں اورمکان نذر آتش

ہندو مت اور ہندوتوا کے درمیان نظریاتی فرق کو واضح کرنے کے لیے ایئر نے مہاتما گاندھی اور ونایک دامودر ساورکر کے متصادم عالمی نظریات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی کا ہندومت عدم تشدد اور اخلاقی ضبط پر مبنی تھا، جبکہ ساورکر کا ہندوتوا کا تصور سیاسی بالادستی اور محاذ آرائی کو ترجیح دیتا تھا۔ ایئر کے نقطہ نظر سے، ہندومت کو ہندوتوا کے برابر قرار دینا مذہب کے جامع اور لچکدار کردار کو کم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے ہندوتوا کے جارحانہ مظاہر پر بھی تنقید کی اور اقلیتوں پر حملوں اور ثقافتی یا مذہبی اظہار پر پابندیوں جیسے واقعات کو سیاست زدہ مذہب کا نتیجہ قرار دیا۔

اس مباحثہ میں ٹی ایم سی لیڈر اور لوک سبھا ممبر مہوا موئترا بھی شریک تھیں۔ انہوں نے ہندومت اور ہندوتوا کے درمیان ایئر کی جانب سے کئے گئے فرق کی تائید کی اور ہندومت کو فطری طور پر متنوع جبکہ ہندوتوا کو سخت اور اخراجی قرار دیا۔ اس کے برعکس، بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے ہندوتوا کا دفاع کرتے ہوئے دلیل دی کہ یہ بنیادی ’’ہندو تتو‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے اور ہندومت کا مخالف نہیں بلکہ اس کا تکمیلی حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ اگر آپ صرف ووٹر بن کر رہیں گے تو گھر پر بلڈوزر چلے گا‘‘

بی جے پی کانگریس پر حملہ آور

بی جے پی نے ہندوتوا اور ہندومت پر ایئر کے تبصروں کے بعد فوری طور پر جوابی وار کرتے ہوئے کانگریس پر ایک بار پھر ہندوؤں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ زعفرانی پارٹی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری نے کہا کہ پارٹی انتخابی فائدے کے لیے ہندوؤں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ’’اقلیتوں کو متحد کرنے اور ہندو اکثریت کو تقسیم کرنے‘‘ کی حکمتِ عملی ہے۔

بھنڈاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’کانگریس نے ایک بار پھر ہندوؤں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایک ہندو دوسرے ہندو کے خلاف کھڑا ہو جائے۔ اس سے کانگریس کو فائدہ پہنچتا ہے، جس کی توجہ ’ووٹ بینک مستحکم کرو: اقلیتوں کو متحد کرو اور ہندو اکثریت کو تقسیم کرو‘ پر مرکوز ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK