Updated: August 03, 2026, 9:31 PM IST
| Santiago
دنیا کے سب سے بڑے ڈجیٹل کیمرے سے لی گئی نئی فلکیاتی تصویر نے کائنات کی وسعت کا حیرت انگیز منظر پیش کرتے ہوئے پانچ لاکھ سے زائد کہکشاؤں کو ایک ہی فریم میں قید کر لیا۔ یہ تاریخی کامیابی سائنسدانوں کو کائنات کی تشکیل اور ارتقا کو پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دے گی۔
ایک ہی شاٹ میں ۵؍ لاکھ سے زیادہ کہکشائیں اور۵۰؍ ہزار سے زائد ستارے دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
دنیا کے سب سے بڑے ڈجیٹل کیمرے کی مدد سے ماہرینِ فلکیات نے کائنات کے ایک نہایت گہرے منظر میں پانچ لاکھ سے زائد کہکشاؤں اور پچاس ہزار ستاروں کو ریکارڈ کیا ہے۔ یہ تصویر چلی میں قائم ویرا سی روبن آبزرویٹری میں نصب ۳ء۲؍گیگا پکسل ( ۳ء۲؍ارب پکسل) صلاحیت کے حامل LSST کیمرے کے ذریعے حاصل کی گئی، جو آبزرویٹری کی۸ء۴؍ میٹر قطر والی سیمونی سروے ٹیلی اسکوپ پر نصب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی پرچم لہرانے پر برٹش بینڈ Massive Attack کے دو رُکن پر سنگاپور میں پابندی
یہ تصویر کسی ایک ہی ایکسپوژر سے نہیں لی گئی، بلکہ سیکڑوں الگ الگ تصاویر کو ایک دوسرے پر تہہ در تہہ جوڑ کر تیار کی گئی ہے۔ ہر نئی تہہ نے مزید مدھم اور دور دراز روشنی کو نمایاں کیا، جس کے نتیجے میں ایک ایسی تصویر سامنے آئی جو بے شمار کہکشاؤں سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں اپنی مخصوص بازوؤں والی سرپل کہکشائیں، ہموار بیضوی کہکشائیں، آپس میں ٹکراتی ہوئی کہکشائیں اور ابتدائی کائنات سے تعلق رکھنے والی مدھم سرخ کہکشائیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس منظر میں ہماری اپنی ملکی وے (دودھیا کہکشاں ) کے صرف چند روشن ستارے پیش منظر میں نظر آتے ہیں، جو تصویر کے حسن کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ، اسرائیل اور خطے کے ممالک کو سخت انتباہ
روبن آبزرویٹری ایک مشترکہ سائنسی منصوبہ ہے، جسے امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور محکمۂ توانائی کے دفتر برائے سائنس کی مالی معاونت حاصل ہے۔ اس تصویر میں دکھایا گیا علاقہ کاسموس (COSMOS) فیلڈ کہلاتا ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے فلکیاتی مشاہدات کا مرکز رہا ہے۔ اس کا آغاز۲۰۰۳ء میں ہبل اسپیس دوربین کے ابتدائی مشاہدات سے ہوا تھا۔ اس کے بعد دنیا کی کئی بڑی دوربینوں نے بھی آسمان کے اسی حصے کا مختلف طولِ موج، یعنی ریڈیو لہروں سے لے کر ایکس ریز تک، مسلسل مشاہدہ کیا اور قیمتی معلومات جمع کیں۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پراسرائیل کے حملے
کاسموس (COSMOS) فیلڈ کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
کاسموس فیلڈ ہماری کہکشاں کے گنجان حصے سے ہٹ کر واقع ہے، جہاں قریبی ستاروں اور گرد و غبار کے بادلوں کی مداخلت بہت کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوربینوں کو بے شمار دور دراز کہکشاؤں کا نہایت صاف اور واضح منظر ملتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ان میں سے بعض کہکشاؤں کی روشنی اربوں برس کا سفر طے کرکے اب زمین تک پہنچی ہے۔ یہ میدان سائنسدانوں کو ایک ہی مسلسل ڈیٹا سیٹ میں کائنات کی مختلف ادوار کی کہکشاؤں کا مطالعہ کرنے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ وقتاً فوقتاً ہونے والے مشاہدات کے ذریعے روبن آبزرویٹری آسمان کی مسلسل بدلتی ہوئی حالت کا ایک زندہ ریکارڈ تیار کر رہی ہے۔ یہی اس کے دس سالہ منصوبے لیگیسی سروے آف اسپیس اینڈ ٹائم (LSST) کا بنیادی مقصد ہے، جس کے تحت کائنات کی اب تک کی سب سے جامع، تفصیلی اور مسلسل تازہ ہوتی ہوئی تصویر تیار کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: تباہ شدہ گھروں کے ملبے سے مزید ۱۱۲؍ لاشیں برآمد ، بچے بھی شامل
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس میدان کے آئندہ مشاہدات مزید مدھم اور دور دراز کہکشاؤں کے ساتھ ساتھ پہلے سے کہیں زیادہ باریک تفصیلات بھی آشکار کریں گے۔ یہ تصویر روبن آبزرویٹری کے ارلی ڈیٹا پریویو 2 (EDP2) کا حصہ ہے، جو LSST کیمرے سے حاصل ہونے والے مشاہدات پر مبنی پہلی باضابطہ ڈیٹا ریلیز ہے۔ اس میں اپریل ۲۰۲۵ءسے جنوری۲۰۲۶ءکے دوران جمع کئے گئے سائنسی تصدیقی مشاہدات شامل ہیں، جو تقریباً۳؍ہزار مربع ڈگری آسمانی رقبے پر محیط ہیں، یعنی جنوبی نصف کرے کے نظر آنے والے کل آسمان کے لگ بھگ چھٹے حصے کے برابر۔