• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطینیوں نے قرض معافی مہم میں ۷۵؍ ملین شیکل کے چیک، کھاتے جلا دیے

Updated: September 24, 2026, 10:02 PM IST | Ramla

۴؍ ستمبر کو ایک ٹیچر کے ۲؍ ہزار شیکل کے قرض سے شروع ہونے والی مہم چند ہی دن میں وسیع عوامی تحریک بن گئی، دکانداروں اور تاجروں نے واجب الادا رقوم معاف کردیں۔

A bank in Ramallah. Photo: X
راملہ میں واقع ایک بینک۔ تصویر: ایکس

مقبوضہ مغربی کنارے میں شدید معاشی مشکلات کے درمیان فلسطینیوں نے قرض معاف کرنے کی ایک غیر معمولی مہم شروع کردی ہے، جس میں دکاندار، تاجر اور دیگر قرض خواہ واجب الادا رقوم کے چیک، قرض کی دستاویزات اور کھاتوں کے صفحات پھاڑ کر یا جلا کر قرض داروں کو ادائیگی سے بری کر رہے ہیں۔ ’’تنازل لله‘‘ یعنی ’’اللہ کی خاطر معاف کردیں‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی یہ مہم ۴؍ ستمبر کو فلسطینی صحافی علاء ریماوی کی ایک اپیل کے بعد شروع ہوئی اور چند ہی دن میں تقریباً ۷۵؍ ملین ملین شیکل، یعنی تقریباً ۲۵؍ ملین ڈالر کے قرض معاف کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس مہم کی ابتدا ایک فلسطینی ٹیچر کے معاملے سے ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق استادہ نے ریماوی سے رابطہ کرکے بتایا کہ اس کا ۲؍ ہزار شیکل کا چیک واجب الادا ہے، لیکن بینک اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے ادا نہیں کرسکتی۔ مغربی کنارے میں چیک کی عدم ادائیگی بعض حالات میں قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے، جس کے باعث وہ پریشان تھیں۔ ریماوی نے چیک کے حق دار سے رابطہ کیا اور اس نے قرض معاف کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ اسی واقعے کے بعد ریماوی نے سوچا کہ اگر ایک شخص قرض معاف کرسکتا ہے تو یہ عمل مزید لوگوں تک کیوں نہ پہنچایا جائے۔

۴؍ ستمبر کی صبح ریماوی نے فیس بک پر قرض خواہوں سے اپیل کی کہ وہ مالی مشکلات سے دوچار لوگوں کے قرض اپنی استطاعت کے مطابق معاف کردیں۔ ان کے مطابق اپیل کے تقریباً ایک گھنٹے کے اندر ہی ۵؍ لاکھ شیکل کے قرض معاف کرنے کی اطلاعات موصول ہوگئیں۔ چند دن بعد اعلان کردہ معاف کیے گئے قرضوں کی مجموعی مالیت تقریباً ۷۵؍ ملین شیکل تک پہنچ گئی۔ مہم مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور قصبوں تک پھیل گئی اور غزہ، ۱۹۴۸ء میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور دیگر مقامات سے بھی لوگوں کے ردعمل کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس مہم کی علامت بننے والی ویڈیوز میں دکاندار اور قرض خواہ پرانے چیک، رسیدیں، قرض کی دستاویزات اور ہاتھ سے لکھے کھاتے نکالتے ہوئے نظر آئے۔ بعض نے انہیں پھاڑ دیا، جبکہ بعض نے چولہے یا گرل پر رکھ کر جلا دیا۔ شمالی جنین کے علاقے سِلت الظہر میں ایک کپڑوں کی دکان کے مالک نے ایسا کھاتہ جلانے کی ویڈیو شیئر کی جس میں گاہکوں کے تقریباً ۴۷؍ ہزار شیکل کے قرض درج تھے۔ رام اللہ کے مشرق میں واقع سِلواد میں ایک مرغی فروش نے ۲۵۰۰۰۰؍ شیکل کے قرض کا کھاتہ معاف کرنے کا اعلان کیا۔

مہم میں بڑی رقوم کے ساتھ چھوٹے قرض بھی معاف کیے گئے۔ ایک وکیل نے بتایا کہ اس کے مؤکل نے ایسے افراد کے خلاف دائر ۲؍  مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا جن کے بینک چیک واپس ہوگئے تھے۔ ایک ریڑھی والے نے صفائی کرنے والے ایک کارکن کا صرف۳۶؍ شیکل کا قرض بھی معاف کردیا۔ ریماوی نے اس معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ممکن ہے یہ رقم زیادہ نہ ہو، لیکن ایک ریڑھی والے اور صفائی کرنے والے کارکن، دونوں کے لیے ۳۶؍ شیکل بہت بڑا فرق رکھتے ہیں۔‘‘ مہم کا پھیلاؤ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی کنارے کی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ فلسطینی مرکزی ادارۂ شماریات کے مطابق ۲۰۲۵ء میں مغربی کنارے میں بے روزگاری کی شرح ۷ء۲۸؍ فیصد تھی، جو ۲۰۲۳ء کی ۳ء۱۸؍ فیصد شرح سے نمایاں زیادہ ہے۔ تازہ سہ ماہی اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء کی دوسری سہ ماہی میں بھی بے روزگاری ۹ء۲۷؍ فیصد رہی اور تقریباً ۲۸۴۰۰۰؍ افراد بے روزگار تھے۔

یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس: پریس پر پابندی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا

اس معاشی دباؤ کا ایک پہلو اسرائیل میں کام کرنے والے مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے روزگار سے بھی جڑا ہے۔ فلسطینی مرکزی ادارۂ شماریات کے مطابق ۲۰۲۶ء دوسری سہ ماہی میں تقریباً ۵۳۰۰۰؍ فلسطینی اسرائیل اور اسرائیلی بستیوں میں کام کر رہے تھے، جبکہ اسی عرصے میں اسرائیل میں کام کرنے والوں کی تعداد تقریباً ۳۵۰۰۰؍ تھی۔ ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں دونوں مقامات پر کام کرنے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد تقریباً ۴۸؍ ہزار تھی۔ فلسطینی اتھاریٹی بھی شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ فلسطینی معیشت پر جولائی ۲۰۲۶ء کی ایک رپورٹ میں فلسطین اکنامک پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی کلیئرنس آمدنی روکنے کے طریقوں میں توسیع اور بینکاری نظام میں اضافی شیکل کرنسی کا بحران تجارت، ایندھن کی فراہمی اور روزمرہ اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر اسرائیلی بینکوں اور فلسطینی بینکوں کے درمیان نمائندہ بینکاری تعلقات ختم ہوتے ہیں تو بحران مزید وسیع ہوسکتا ہے۔

بینکاری نظام پر دباؤ کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اسرائیلی بینکوں اور فلسطینی بینکوں کے درمیان سالانہ تقریباً ۵۱؍ ارب ارب شیکل کے لین دین ہوتے ہیں، جو فلسطینی تجارت کے تقریباً ۹۰؍ فیصد حصے کو اسرائیلی مالیاتی نظام سے جوڑتے ہیں۔ تاہم ستمبر کے آغاز میں اسرائیل ڈسکاؤنٹ بینک اور بینک ہاپوالم نے فلسطینی بینکوں کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کے منصوبے کو ۲۰۲۶ء کے اختتام تک مؤخر کردیا۔ اس فیصلے سے فوری طور پر مکمل بینکاری رابطہ منقطع ہونے کا خطرہ ٹل گیا، لیکن مستقل انتظام کا مسئلہ برقرار ہے۔ اسی معاشی ماحول میں قرض کا بوجھ بہت سے خاندانوں کے لیے روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ چھوٹی دکانوں میں بعض صارفین اشیائے ضروریہ ادھار لیتے ہیں، جبکہ دکاندار نام اور رقم اپنے کھاتوں میں درج کرتے ہیں۔ کچھ معاملات میں پوسٹ ڈیٹڈ چیک یا ادائیگی کے وعدے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے موجودہ مہم میں قرض معافی صرف بڑی کمپنیوں یا دولت مند افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ چھوٹے تاجروں اور عام شہریوں نے بھی اپنے واجبات معاف کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے احتجاج اور حفاظتی انتباہ کے درمیان اپنا امریکہ دورہ مختصر کیا

مہم کے بانی علاء ریماوی کو اس دوران خود ایک اور واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ ۱۷؍ ستمبر کو اسرائیلی فورسیز نے رام اللہ میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کرلیا۔ ان کے خاندان کے مطابق انہیں نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔ عربی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ گرفتاری کے وقت ان کا فون اور کیمرے کا سامان بھی ضبط کیا گیا، تاہم گرفتاری کی وجہ کے بارے میں اسرائیلی حکام کی جانب سے واضح بیان سامنے آنے کی اطلاع نہیں ہے۔ ریماوی کی گرفتاری کے باوجود ’’تنازل لله‘‘ مہم سے وابستہ قرض معافی کے اعلانات جاری رہے۔ الجزیرہ کی ۱۹؍ ستمبر کی رپورٹ کے مطابق مہم کے تحت معاف کیے گئے قرضوں کی مجموعی مالیت تقریباً ۷۵؍ ملین شیکل تک پہنچ چکی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد بھی طویل عرصے سے مکمل تنخواہوں کے بجائے جزوی ادائیگیوں پر انحصار کررہی ہے، جس نے گھریلو قرض اور مالی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ یہ مہم کسی سرکاری قرض معافی پروگرام یا مالی امدادی اسکیم کے بجائے شہریوں کی جانب سے اپنے طور پر واجبات معاف کرنے کی کوشش ہے۔ اس میں معاف کی جانے والی رقوم کی کوئی مرکزی سرکاری رجسٹری موجود نہیں، اس لیے ۷۵؍ ملین شیکل کا مجموعہ مہم کے منتظمین اور متعلقہ رپورٹس میں اعلان کردہ رقوم پر مبنی ہے، نہ کہ کسی سرکاری مالیاتی ادارے کے آڈٹ شدہ اعداد و شمار پر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK