چند روز پہلے ایک رکشا ڈرائیور کے ذریعے ایک عورت کو زخمی کر کے ان کے زیورات لوٹنے کے واقع کے بعد پولیس حرکت میں آگئی اور عرصے کے بعد پنویل شہر پولیس اسٹیشن ،کھانڈیشور پولیس اسٹیشن اور آر ٹی او نے خصوصی مہم شروع کی اور پنویل ریلوے اسٹیشن کے قریب رکشا اسٹینڈ اور ایچ ڈی ایف سی سرکل پر۵؍پولیس ٹیموں نے رکشا والوں کے خلاف کارروائی کی۔
پنویل میں رکشا والوں کے خلاف پولیس اہلکارکارروائی کرتے ہوئے۔تصویر:آئی این این
چند روز پہلے ایک رکشا ڈرائیور کے ذریعے ایک عورت کو زخمی کر کے ان کے زیورات لوٹنے کے واقع کے بعد پولیس حرکت میں آگئی اور عرصے کے بعد پنویل شہر پولیس اسٹیشن ،کھانڈیشور پولیس اسٹیشن اور آر ٹی او نے خصوصی مہم شروع کی اور پنویل ریلوے اسٹیشن کے قریب رکشا اسٹینڈ اور ایچ ڈی ایف سی سرکل پر۵؍ پولیس ٹیموں نے رکشا والوں کے خلاف کارروائی کی۔ اس میں زیادہ مسافر سوار کرنے، بنا لائسنس کے گاڑی چلانے، ڈریس کوڈ نہ پہننے ،ٹریفک کے اصولوں پر عمل نہ کرنے، مسافر خاص طور سے خواتین سے بدتمیزی سے پیش آنے والےرکشا ڈرائیوروں اور ان کے مالکان کے خلاف عرصے کے بعد کڑی کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے:سدھانت چترویدی نے رنویر سنگھ کی فلم ’’دُھرندھر‘‘ میں شاندار اداکاری کی تعریف کی
کل ۳۵۰؍ رکشا کی جانچ کی گئی ۳۴؍ رکشا کو ضبط کیا گیا اور ایک لاکھ۶۸؍ ہزار ۵۰۰؍ روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔ اس کڑی کارروائی سے رکشہ والوں کو واضح پیغام دیا گیا کہ آئندہ ان کی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی اور یہ مہم لگاتار جاری رہے گی۔ اس کارروائی کا عوام نے خیر مقدم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا اعادہ کیا
واضح رہے کہ رکشا والوں کی من مانی سے عوام حد درجہ پریشان ہیں جبکہ ایک رکشا والے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہاں پر اکثر رکشا والے ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں، خواتین سے بھی ادب سے پیش آتے ہیں۔ چند رکشہ والوں کی وجہ سے پوری برادری کا نام خراب ہو رہا ہے ۔ تاہم عوام یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ رکشا والوں کی یونین اپنے ممبروں کو واجبی کرایہ وصول کرنے اور عوام سے خوش اخلاقی سے پیش آنے کی ہدایت کیوں نہیں دیتی ہے۔