• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں مظاہروں پر ردِعمل کے معاملے میں امریکی حکام میں اختلاف: رپورٹ

Updated: January 12, 2026, 5:04 PM IST | Washington

ایران میں جاری ملک گیر مظاہروں کے تناظر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ممکنہ امریکی ردِعمل پر بریفنگ دی جائے گی جس میں پابندیوں سے لے کر فوجی آپشنز تک پر غور ہوگا۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے سنگین اور غیر متوقع علاقائی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

Donald Trump. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے توقع ہے کہ وہ منگل کو ایران میں ملک گیر مظاہروں کے ممکنہ جواب پر بریفنگ حاصل کریں گے۔ حکام کے مطابق ان مذاکرات میں مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا، جن میں پابندیاں، سائبر اقدامات اور ممکنہ فوجی کارروائی شامل ہیں، تاہم، اس مرحلے پر کسی حتمی فیصلے کی توقع نہیں ہے۔ ان بات چیت میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین کی شرکت متوقع ہے۔ ادھر نیویارک ٹائمز کے حوالے سے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل کمانڈر امریکی افواج کو تیار کرنےکیلئے مزید وقت چاہیں گے، جس میں پوزیشنز کو مستحکم کرنا اور ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خلاف دفاع مضبوط کرنا شامل ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا کیوبا کو سخت انتباہ، وینزویلا سے تیل اور امداد بند کرنے کا اعلان

امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوجی کارروائی کے غیر متوقع نتائج بھی نکل سکتے ہیں جن میں ایرانی عوام کا اپنی حکومت کے پیچھے متحد ہو جانا یا پورے خطے میں جوابی حملوں کا آغاز ہونا شامل ہے۔ ایران دسمبر کے آخر سے شدید احتجاج کی لپیٹ میں ہے، جو ریال کی قدر میں شدید کمی اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے خلاف شروع ہوئے۔ ٹرمپ نے عوامی طور پر تہران کو مظاہروں کو کچلنے کے خلاف خبردار کیا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے ان بیانات کو ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے بعض قانون سازوں نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا ایران کے خلاف فوجی کارروائی واقعی امریکہ کیلئے بہترین راستہ ہے یا نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی دھمکیوں پر ایران کا انتباہ، اسرائیل ہائی الرٹ

کم از کم دو امریکی سینیٹرز نے اتوار کی صبح ٹی وی نیٹ ورکس کے پروگراموں میں محتاط رویہ اختیار کرنے کی بات کی۔ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ ایران پر بمباری سے وہ نتائج حاصل ہوں گے جن کی توقع کی جا رہی ہے۔ ‘‘ گزشتہ جون میں، امریکہ نے مختصر ایران اسرائیل جنگ کے دوران ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے تحت ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر فضائی حملے کئے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK