پیرس میں تارکین وطن کارکن کی حراستی موت کے خلاف ہزاروں شہریوں نے احتجاج کیا، ایل ہاسن دیارا یکم جنوری کو جبری گرفتاری کے بعد ہلاک ہو گئے تھے۔
EPAPER
Updated: January 27, 2026, 10:03 PM IST | Paris
پیرس میں تارکین وطن کارکن کی حراستی موت کے خلاف ہزاروں شہریوں نے احتجاج کیا، ایل ہاسن دیارا یکم جنوری کو جبری گرفتاری کے بعد ہلاک ہو گئے تھے۔
موریتانا کے تارکین وطن کارکن کی حراست میں ہونے والی ہلاکت پر پیرس میں سنیچر کو احتجاج کیا گیا۔ ۳۵؍ سالہ ایل ہاسن دیارا کی۱۴؍ جنوری کی جبری گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ پولیس تشدد کے مخالف گروپوں کی کال پر تقریباًایک ہزار افراد نے فرانسیسی دارالحکومت میں احتجاج کیا۔احتجاجیوں نے جبری حراست کے بعد ہلاک ہونے والے دیارا کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔پولیس کی نگرانی میں خاموشی کے ساتھ ہونے والے احتجاج میں دیارا کے خاندان والے بھی شریک ہوئے۔مظاہرین نے ’’ایل ہاسن دیارا کے لیے انصاف‘‘ اور ’’انصاف نہیں تو امن نہیں‘‘ کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔
« Pas de justice, pas de paix »
— Thomas Portes (@Portes_Thomas) January 18, 2026
Rassemblement digne et déterminé pour exiger justice et vérité suite à la mort de El Hacen Diarra entre les mains de la police.
Sans justice, il n’y aura jamais de paix. pic.twitter.com/Q8N21V3dew
واضح رہے کہ دیارا کو پیرس کے بیسویں آرونڈسمینٹ میں گرفتاری کی مزاحمت اور جعلسازی انتظامی دستاویزات رکھنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ تارکین وطن کارکنوں کی ہوسٹل کے سامنے پولیس تشدد کا شکار ہوئے جہاں وہ رہتے تھے۔بعد ازاں مقامی رہائشیوں کی ریکارڈنگ میں دو اہلکاروں کو زمین پر پڑے شخص کومکے مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ دیارا کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’’تم مجھے گلا گھونٹ رہے ہو۔‘‘ پیرس کے پراسیکیوٹرز نے نوٹ کیا کہ افسران کے جسمانی کیمرے بیٹری ختم ہونے کی وجہ سے اس وقت کام نہیں کر رہے تھے۔عوامی اتھارٹی کی نمائندگی کرنے والے شخص کی جانب سے جان بوجھ کر تشدد کے ذریعے موت کا سبب بننے کے الزام میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا میں قانون کی حکمرانی کے بجائے جنگل راج عام ہو رہا ہے: انتونیو غطریس
تاہم فرانسیسی وزیر داخلہ لارنٹ نونز نے افسروں کے عارضی معطلی کی مخالفت کی، جبکہ دیارا کے خاندان نے ان کی حراست کا مطالبہ کیا۔یاد رہے کہ اس وقت یورپ اور امریکہ میں تارکین وطن کے تعلق سے عام نفرت پائی جارہی ہے، حکام اسی عوامی جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ، اپنی انتظامی ناکامی سے توجہ ہٹانے کیلئے تارکین وطن کو ملکی ابتری کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ تارکین وطن کے خلاف کارروائی اسی عمل کی ایک مثال ہے۔