• Tue, 27 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیرس: لوور میوزیم ایک بار پھر ہڑتال کے باعث بند، ایک ملین یورو سے زائد نقصان

Updated: January 27, 2026, 10:51 AM IST | Paris

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع لوور میوزیم عملے کی ہڑتال کے باعث بار بار بندش کا سامنا کر رہا ہے، جس سے میوزیم کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔ ملازمین کام کے حالات اور تنخواہوں میں عدم مساوات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ مذاکرات کے باوجود مسئلہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔

Louvre Museum. Photo: INN
لوور میوزیم۔ تصویر: آئی این این

لوور میوزیم پیر کو دسمبر کے وسط کے بعد چوتھی مرتبہ بند رہا، کیونکہ عملے نے کام کے حالات کے خلاف جاری ہڑتال برقرار رکھی۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے اس میوزیم کے مطابق، اس طویل تعطل کے باعث اسے ایک ملین یورو سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ سی جی ٹی اور سی ایف ڈی ٹی یونینوں کے مطابق، پیر کی صبح کم از کم۳۰۰؍ ملازمین نے ایک عمومی اجلاس میں شرکت کی اور۱۵؍ دسمبر کو شروع ہونے والی ہڑتال میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا۔ بی ایف ایم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، ملازمین عملے کی کمی اور فرانس کی وزارتِ ثقافت کے تحت کام کرنے والے دیگر ملازمین کے مقابلے میں تنخواہوں کے فرق کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران میں مظاہرین نے صرف تہران میں ۳۰؍ کھرب ریال سے زیادہ کا نقصان پہنچایا

میوزیم کا کہنا ہے کہ یہ بندش اس کی تاریخ کے طویل ترین سماجی تنازعات میں سے ایک میں تازہ ترین دھچکا ہے، حالانکہ انتظامیہ اور وزارت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ اس صنعتی کارروائی کے باعث لوور کو اب تک تین بار مکمل طور پر بند کرنا پڑا ہے، جبکہ تین دیگر مواقع پر گیلریاں جزوی طور پر کھولی گئیں۔ حتیٰ کہ جن دنوں ہڑتال کی تجدید نہیں کی گئی، تب بھی عملے کے اجلاسوں کے باعث میوزیم کے کھلنے میں تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی، جس سے بڑی تعداد میں سیاح باہر انتظار کرتے رہے۔ ثقافت کی وزیر رشیدہ داتی نے ملازمین کے مطالبات کو ’’جائز‘‘ قرار دیا ہے۔ 
یونین کے نمائندے کرسچین گالانی نے کہا، ’’ہمیں سیاسی عزم کی ضرورت ہے تاکہ ان تنخواہی تفاوتوں کو بغیر تاخیر پورا کیا جا سکے، ‘‘اور مزید کہا کہ وزیر کو پیرس کی میئر کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے عہدہ چھوڑنے سے پہلے اقدام کرنا چاہیے۔ سی ایف ڈی ٹی یونین کی نمائندہ ویلیری بود نے کہا کہ میوزیم انتظامیہ نے اتوار کو کام کے حالات سے متعلق تجاویز کا ایک ابتدائی پیکج پیش کیا، لیکن ملازمین نے انہیں ’’’ناکافی‘‘قرار دیا۔ لوور میوزیم نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ہڑتال سے منسلک آمدنی کے نقصانات پہلے ہی ’’کم از کم ایک ملین یورو‘‘تک پہنچ چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK