بی جے پی کے وجے اگروال اور شیوسینا (شندے) کے ساگر بھاروکا کے درمیان لڑائی کے سبب دونوں پارٹیوں میں کشیدگی عروج پر۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 11:10 AM IST | Mumbai
بی جے پی کے وجے اگروال اور شیوسینا (شندے) کے ساگر بھاروکا کے درمیان لڑائی کے سبب دونوں پارٹیوں میں کشیدگی عروج پر۔
اکولہ میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں ۲؍ روز قبل خوب تماشہ ہوا تھا جب بی جے پی سے تعلق رکھنے والے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمیں وجے اگروال اور شیوسینا (شندے) کے گروپ لیڈر ساگر بھاروکا کے درمیان بھرے ایوان میں ’ آن کیمرہ‘ توتو میں میں ہوئی حتیٰ کہ دونوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ بالآخر وجے اگروال کے حکم پر ساگر بھاروکا کو ایوان سے نکال دیا گیا۔ لیکن دوسرے دن یہ معاملہ سڑک پر اتر آیا جب ان دونوں لیڈران کا پھر آمنا سامنا ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے کو نہ صرف گالیاں دیں بلکہ مارنے کو بھی دوڑے۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال ایس آئی آر: ۳۴؍ لاکھ سے زائد رائے دہندگان کو راحت
یاد رہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اسکولوں کے کام کیلئے جاری کئے گئے ٹینڈروں پر ساگر بھاروکا اعتراض ظاہر کر رہے تھے لیکن وجے اگروال نے انہیں بولنے نہیں دیا۔ اس پر دونوں میں پہلے حجت پھر گالی گلوچ ہوئی۔ وجے اگروال نے ساگر کو ’گدھے کابچہ‘ کہا تو ساگر نے پلٹ کر انہیں ماں کی گالی دی۔ دوسرے دن یعنی بدھ کو شیوسینا (شندے کی طرف سے پورے اکولہ میں اسکولوں کیلئے جاری کئے گئے ٹینڈروں کے خلاف پوسٹر اور بینر لگائے گئےمگر بی جے پی کے حکم پر ان پوسٹروں کو نکال دیا گیا۔
اسی معاملے پر کارپوریشن کے باہر ساگر بھاروکا میڈیا کے ایک نمائندے سے بات کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ شیوسینا (شندے) کے اکولہ صدر منگیش کالے بھی موجود تھے۔ بات کرتے کرتے ساگر بھاروکا مشتعل ہو گئے اور کیمرے میں وجے اگروال کو مخاطب کرتے ہوئے مغلظات بکنے لگے۔ وہ گالیاں دے ہی رہے تھے کہ وجے اگروال اپنی گاڑی میں وہاں پہنچے۔ گاڑی سے اتر کر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ’’ وہاں کیا ہو رہا ہے‘‘ یہ معلوم ہونے پر کہ ساگر بھاروکا انہیں گالیاں دے رہے ہیں، وہ مشتعل ہو گئے اور ساگر بھاروکا کی طرف بڑھنے لگے۔ وہاں موجود لوگوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ ادھر سے ساگربھاروکا بھی آگے آئے اور دونوں ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے۔ ساگر نے اپنے ہاتھ سے وجے اگروال کی کار کے شیشے پر مکا بھی مارا۔ کسی طرح دونوں کو لوگوں کو الگ کیا۔منگیش کالے نے بھی بھاروکا کا بھرپور ساتھ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: خواتین ریزرویشن بل پر اپوزیشن کا شدید اعتراض، ایوان میں گرما گرم بحث
ساگر بھاروکا کی گرفتاری
وجے اگروال نے اس معاملے میں شکایت اکولہ سٹی پولیس اسٹیشن میں درج کروائی جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور اس نے ساگر بھاروکا کو گرفتار کر لیا۔ ساگر بھاروکا کی گرفتاری کے بعد شیوسینا (شندے) میں ناراضگی پھیل گئی اور پارٹی کے کارکنان نے شہر کے الگ الگ علاقوں میں احتجاج شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ شیوسینا کے سینئر لیڈر راجیش سالوی پولیس اسٹیشن پہنچے اور ساگر بھاروکا کو رہا کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساگر بھاروکا نے ایوان میں کئی غلط سوال نہیں پوچھا تھا۔ انہیں سوال پوچھنے کی اجازت دی جانی چاہئے تھی لیکن ان کے ساتھ بد سلوکی کی گئی اور انہیں ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ پولیس نے ساگر کو رہا نہیں کیا بلکہ انہیں عدالت میں پیش کیا۔ البتہ ساگر بھاروکا کی طرف سے بھی وجے مالیا کے خلاف شکایت درج کی گئی۔ اس پورے معاملے کی وجہ سے اکولہ میں مہایوتی کی دو اہم پارٹیوں بی جے پی اور شیوسینا ( شندے) کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔