Inquilab Logo Happiest Places to Work

حج ۲۰۲۶ء میں مرد وخواتین عازمین کی رہائش گاہیں الگ الگ!

Updated: April 17, 2026, 10:56 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

تمام عازمین کو پہلی دفعہ اسمارٹ واچ بھی مہیا کرائی جارہی ہے مگرحیرت انگیزطور پر اس کے استعمال کی ٹریننگ نہیں دی گئی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

حج ۲۰۲۶ءمیں مرد وخواتین حجاج کی رہائش گاہیں الگ الگ ہوں گی جس کی ترتیب یہ ہوگی کہ عازمین ایک ہی منزل پر ٹھہرائے جائیں گے مگرمیاں بیوی یا محرم وغیرہ کے کمرے الگ الگ ہوں گے۔ مردوں کےکمرے میں محض مرد اورعورتوں کےکمرے میں صرف خواتین ہوں گی۔اس طرح کا نظم پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔اس کی وجہ سے عازمین کودقتوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دوسرے اس دفعہ عازمین کواسمارٹ گھڑی بھی مہیا کرائی جارہی ہے مگرنہ تواسے چلانے کی ٹریننگ دی گئی ہےاورنہ ہی ٹرینرس کواس کی معلومات دی گئی ہے، بس ایام حج میں عازمین کی گمشدگی کے نام پراسے تھوپا گیا ہے۔

یادر ہے کہ حج مختلف امورپرمشتمل ہوتا ہے اور حجاج کی بڑی تعداد کاتعلق دیہی علاقو ں سے ہوتا ہے۔ ایسے میں ان کی ہرطرح کی تربیت لازم ہوتی ہے تاکہ ان کے لئے اوران کی ذات سے دیگر حجاج کےلئے سہولت پیدا ہو۔ حج کمیٹی کی جانب سے تربیت دی جاتی ہے مگرحیرت انگیزطور پراسمارٹ واچ کے تعلق سے تربیت کا کوئی نظم نہیں کیا گیا۔ویسے بھی حج کمیٹی کے مطابق یہ امبارکیشن پوائنٹ پرہی مہیا کرائی جائے گی۔ سوال یہ ہےکہ کیا تمام عازمین کواس کی معلومات ہے اوروہ اس کااستعمال جانتے ہیں یا محض خانہ پُری کی جارہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’منشیات اورڈرگس مافیا سے شہر کو پاک کرنا ضروری ہے‘‘

میاں بیوی کی رہائش گاہیں الگ کرنے پرمتعدد عازمین سے نمائندۂ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل توایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا، آخر اس دفعہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کا کیا مقصد ہے؟ اگر کہیں کچھ شکایت تھی تواس کی اصلاح کی جاتی اورعازمین کومطلع کیا جاتا۔ انہیں یہ سمجھایا جاتا کہ حج کے دوران بہت محتاط رہنے اور ارکان حج اورامورِحج کی سختی سے پابندی کےساتھ عمل کی ضرورت ہے، اختلاط کے سبب کوئی کمی یا بے احتیاطی نہیں ہونی چاہئے۔ کچھ عازمین نےیہ بھی بتایاکہ انہیں ۵؍اپریل کوحج ہاؤس میں بلایا گیا تھا مگریہ حج کمیٹی کی جانب سےباضابطہ نشست نہیں تھی۔ کچھ این جی اوز کے اشتراک سے تربیتی کیمپ منعقد کیا گیا تھا، اس دوران یہ ضرور بتایا گیا کہ اس دفعہ مرد وخواتین عازمین کی رہائش گاہیں الگ ہوں گی مگر وہ ایک ہی منزل پر رہیں گے،آمنے سامنے کمرے ہوں گے، کسی ضرورت پروہ آسانی کے ساتھ رابطہ قائم کرسکیں گے۔ کچھ عازمین نے یہ بھی کہا کہ اگرایسا کوئی فیصلہ کیا گیا تو انہیں پہلے سےمطلع کیا جانا چاہئے تھا،اس کیلئے باقاعدہ سرکیولر جاری کیاجانا چاہئے تھا تاکہ وہ پہلے سے تیار رہتے کہ اس دفعہ رہائش کا نظم الگ انداز میں ہوگا۔ اسے اس قدر مخفی رکھنے میں کیا حکمت ہےیا کیا اندیشہ تھا ؟

کچھ عازمین نے ڈیجیٹائز سسٹم کی ستائش کی مگریہ سوال کیا کہ اسمارٹ واچ سے فائدہ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب اس کے استعمال کا طریقہ بتایا جائے، اسے سمجھایاجائے کہ اس کو کس طرح چلایا جائے گا اورکس طرح بچھڑے ہوئے اس کی مدد سے اپنوں سے مل سکیں گے۔ کچھ عازمین کا یہ کہنا ہےکہ آخر دورانِ حج کتنے عازمین بچھڑجاتے ہیں یا گم ہوجاتے ہیں اور ان کو ان کے اہل خانہ سے ملانےیا ان کی رہائش گاہ تک لانے کیلئے جد وجہد کی جاتی ہے۔وہ اعداد وشمار اور فیصد بھی بتایا جاناچاہئے تھا تاکہ اسمارٹ واچ مہیا کرانے کا جواز پیدا ہوتا اور عازمین کواطمینان ہوتا۔ خود حج کمیٹی کے بعض افسران نے بھی اس سے اتفاق نہیں کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: این سی پی (شرد پوار) کی درخواست پر ممبرا کلوا میں ’ ایس آئی آر‘ میں۱۰؍ دن کی توسیع

دونوں اہم سوالات کےتعلق سے حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او شہنواز سی نے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر بتایا کہ ’’تمام ریاستی حج کمیٹیوں کو اس کے بارے میں پہلے ہی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔جہاں تک مرد اور خواتین کی علاحدہ رہائش گاہوں کا معاملہ ہے تو یہ سعودی حکومت کی ہدایات کے مطابق کیا گیا ہے۔‘‘ اسمارٹ واچ کی خوبی یہ بتائی گئی کہ گمشدہ عازم کو ڈھونڈ لے گا،اس سے گم ہونے والے عازم کواہل خانہ تک پہنچانا آسان ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK