علماء اور ملی تنظیموں کے ذمہ داران نے تعزیت پیش کرتے ہوئے مولانا مرحوم کی سادگی، علمی خدمات، قوت فیصلہ کو یاد کیا۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 12:48 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
علماء اور ملی تنظیموں کے ذمہ داران نے تعزیت پیش کرتے ہوئے مولانا مرحوم کی سادگی، علمی خدمات، قوت فیصلہ کو یاد کیا۔
مولانا ڈاکٹر سعیدالرحمٰن اعظمی ندوی کا انتقال بڑا علمی خسارہ ہے۔ علماءاورملی تنظیموںکے ذمہ داران نے تعزیت پیش کی اورمولانا مرحوم کی سادگی، علمی خدمات، قوتِ فیصلہ، تحریر وتقریر، تصنیف اور خطابت کو یاد کیا۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے کہا کہ ’’مولانا کی علمی خدمات روز روشن کی طرح عیاںہیں۔آج ایک بڑی شخصیت ہمارے درمیان سے رخصت ہوئی ہے۔ ندوہ سے جو چراغ بجھا ہے خداکرے کوئی دوسرا چراغ روشن ہو۔ میں اِس وقت پوری علمی دنیا کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ مولانا نے خاص طور پر دارالعلوم کے جشنِ صد سالہ کے موقع پر اور شاملی کے میدان میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکّی وغیرہ کے ہمراہ آزادیٔ وطن کی جو جنگ ہوئی تھی، اسے نہایت عمدہ انداز میں عربی میں پیش کیا تھا۔ میں اپنی طالب علمی کے زمانے سے ہی حضرت مولانا کی زبردست صلاحیت کا معترف ہوں۔‘‘مولانا محمود دریابادی نے کہا کہ’’مولانا مستند ادیب، مقرر،صحافی اور معلّم تھے۔ ان کے انتقال سے عالمی پیمانے پرخلاءپیدا ہوا ہے۔ اللہ پاک امت کو آپ کا بدل عطا فرمائے۔‘‘
مولانا عبدالجلیل مکّی (جمعیت اہل حدیث ) نےکہاکہ’’ مولانا سے میری دو تین مرتبہ ملاقات ہوئی، وہ انتہائی سادگی پسند اورمنکسر المزاج تھے۔ البعث الاسلامی میں شائع ہونے والے ان کے خصوصی مضامین سے میں خاص طور پر استفادہ کرتا تھا اور اسے خطبہ جمعہ میں پڑھتا بھی تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:جین زی پھر ساتھ! آئیسا اور سی جے پی سمیت مختلف تنظیموں کا مشترکہ احتجاج کااعلان
مفتی حذیفہ قاسمی (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر)نےکہاکہ ’’مولانا کا انتقال بڑا علمی خسارہ ہے۔آپ پوری زندگی دینی خدمات اور ندوۃ العلماء (لکھنؤ) کی تعمیر و ترقی میں مستغرق رہے۔آپ بیک وقت تقریر وتحریر اور تدریس و انتظامی امورمیں مہارت تامہ رکھتے تھے ،فیاض ِاجل نے بھی درازئ عمر کا موقع دیا تھا تاکہ آپ سے بہت سے اہم کام لئے جاسکیں اور آپ نے بھی خوب کارہائے نمایاں انجام دیئے۔‘‘محمداسلم غازی (جماعت اسلامی) نے کہا کہ ’’ایک عالم کی موت عالم کی موت کے مصداق ہے۔ان کی علمی خدمات ان کے لئے صدقۂ جاریہ ہوںگی۔ وہ اسلاف کا نمونہ تھے۔ انہوں نے مشکل وقت میں ملت کی اسی انداز میں رہنمائی فرمائی جس طرح بزرگ علماء اور اسلاف فرمایا کرتے تھے۔‘‘
مولانالقمان ندوی نےکہاکہ ’’منصب ِاہتمام پرربع صدی کے قریب تک فائز رہ کرآپ ؒنےندوہ کے علمی و تربیتی مزاج کی حفاظت کی۔ وہ ان اکابر کی یادگارتھے جنہوں نے مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے دور کی علمی روایت کو اپنی آنکھوںسے دیکھا اور اگلی نسلوں تک پہنچایا۔ان کےجانے سے بقیۃ السلف کی آخری کڑی ٹوٹ گئی۔سادگی، تواضع، علمی وقار اور اخلاص نے انہیں علمائے ربانیین کی صف میں ممتاز کیا۔ ان کا تعلق اس جماعت سے تھا جو علم کو تزکیہ اور خدمتِ دین سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔ ان کے ہزاروں شاگرد اور محبّین ملک و بیرونِ ملک موجود ہیں جو مولانا مرحوم کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔‘‘