کم عمر لڑکے لڑکیاں خالی پڑے کنوئوں کی تہہ میں اتر جاتے ہیں اور جان پر کھیل کر آلودہ پانی لے کر آتے ہیں۔
پانی کا بحران۔ تصویر:آئی این این
’ وزیر اعلیٰ سمردھی پنچایت راج ابھیان‘ کی بہترین کارکردگی کیلئے جس گرام پنچایت کو اعزاز سے نوازا گیا اسی گرام پنچایت کی حدود میں ایک گاؤں میں پانی کیلئے بچوں اور خواتین کو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر پانی بھرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ہے امراوتی کے میل گھاٹ علاقے میں واقع دھارنی تعلقہ کے کیکداکھیڑ گائوں جہاں ایسی ہی پریشان کن تصویر سامنے آئی ہے۔ اس قبائلی اکثریتی گاؤں میں پانی کی شدید قلت ہے اور کنویں کی تہہ میں جا کر بچے گدلا پانی جمع کرکے اپنی خاندان کی ضرورت پوری کررہے ہیں۔
اطلاع کے مطابق کیکداکھیڑ گاؤں کی آبادی صرف ۱۵۰؍نفوس پر مشتمل ہے اور یہاں تقریباً ۲۲؍مکانات ہیں۔ تاہم گرمی کی شدت کی وجہ سے گاؤں کا واحد کنواں اور بورویل جیسے پانی کے ذرائع مکمل طور پر سوکھ چکے ہیں۔ پانی ختم ہو جانے کے باعث خواتین اور بزرگ باشندوں کو پانی کی تلاش میں میلوں دور بھٹکنا پڑتا ہے۔ یہاںکم عمر لڑکے، لڑکیاں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کنویں کی تہہ میں اترتے ہیں اور نیچے جمع آلودہ، کیچڑ والا پانی مٹکوں اور برتنوں میں جمع کرتے ہیں۔ گاؤں والوں کے پاس اس آلودہ پانی کو پینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ دیہاتیوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کیکداکھیڑ گاؤں میں فوری طور پر ٹینکروں کے ذریعے پانی کی سپلائی شروع کی جائے اور گاؤں میں پانی کی مستقل اسکیم نافذ کی جائے۔
مشتعل دیہاتیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اگلے دو دنوں میں پانی فراہم نہ کیا گیا تو وہ براہ راست انتظامیہ کے خلاف سخت احتجاج کا آغاز کریں گے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے انہوں نے کئی بار پنچایت سمیتی اور متعلقہ محکمہ آب رسانی کو تحریری شکایات کی ہیں لیکن انتظامیہ ابھی تک نہیں جاگی۔ الزام ہے کہ دیہی علاقوں کے اس بنیادی مسئلے کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے کیونکہ دھارنی پنچایت سمیتی کا کام اس وقت انچارج افسران کے تحت چل رہا ہے۔ جل جیون مشن کے تحت ہر شخص کو روزانہ ۵۵؍لیٹر خالص پانی فراہم کرنے کا دعویٰ کیکداکھیڑ کی صورتحال میں جھوٹا ثابت ہوا ہے۔یاد رہے کہ میل گھاٹ وہ مقام ہے جہاں ہر طرح کی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ ان میں پانی بجلی، اور سڑکیں سبھی شامل ہیں۔ اس تعلق سے کئی بار احتجاج اور جواب میں وعدے کئے جا چکے ہیں۔