برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اور ملکہ کمیلا بکنگھم پیلس کی مرمت مکمل ہونے کے بعد بھی وہاں مستقل رہائش اختیار نہیں کریں گے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے پہلی بار اپنی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے پیش کی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 10:12 PM IST | London
برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اور ملکہ کمیلا بکنگھم پیلس کی مرمت مکمل ہونے کے بعد بھی وہاں مستقل رہائش اختیار نہیں کریں گے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے پہلی بار اپنی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے پیش کی ہیں۔
بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا نے اعلان کیا ہے کہ اگلے سال بکنگھم پیلس کی تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد بھی وہ وہاں مستقل رہائش اختیار نہیں کریں گے۔ اسی دوران، بادشاہ چارلس برطانیہ کے پہلے فرمانروا بن گئے ہیں جنہوں نے اپنی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مالی سال ۲۰۲۴ء۔ ۲۵ءکے دوران۱۲ء۹؍ ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔ بکنگھم پیلس۱۸۳۷ء میں ملکہ وکٹوریہ کے تخت نشین ہونے کے بعد سے شاہی رہائش گاہ رہا ہے، تاہم اس وقت وہاں ۳۶۹؍ ملین پاؤنڈ کی لاگت سے تزئین و آرائش جاری ہے۔ شاہی محل کے مطابق، ٹیکس کی تفصیلات جاری کرنے کا مقصد ’’عوام میں ہماری جوابدہی کے بارے میں بہتر آگاہی پیدا کرنا‘‘ ہے، جبکہ بکنگھم پیلس میں مستقل طور پر نہ رہنے کے فیصلے کا مقصد ’’عوام کیلئے محل تک رسائی کے مزید مواقع فراہم کرنا‘‘ بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ مقبولیت میں نیتن یاہو سے آگے
بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا کہاں رہیں گے؟
بادشاہ کے اکاؤنٹنٹ اور کیپر آف دی پرِوی پرس، جیمز چالمرز کے مطابق، بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کمیلا اپنے پورے دورِ حکومت کے دوران کلیرنس ہاؤس، لندن میں ہی رہائش پذیر رہیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں کو دن کے وقت آرام کرنے اور ضرورت پڑنے پر کبھی کبھار رات گزارنے کیلئے بکنگھم پیلس میں نجی کمرے دستیاب ہوں گے۔ تاہم، بکنگھم پیلس بدستور شاہی خاندان کی تقریبات اور انتظامی سرگرمیوں کا مرکزی مقام رہے گا۔ جیمز چالمرز نے کہا: ’’بکنگھم پیلس ہمیشہ بادشاہت کا مرکزی دفتر (Monarchy HQ) اور ہماری قومی عمارتوں کا تاج کا ہیرا رہے گا، اور جب بھی بادشاہ لندن میں ہوں گے، شاہی پرچم اس کی چھت پر لہراتا رہے گا۔ ‘‘ایک اور شاہی ترجمان نے کہا: ’’بکنگھم پیلس ہر روایتی انداز میں بادشاہت کا دھڑکتا ہوا دل رہے گا، البتہ یہ اب شاہی خاندان کی مستقل رہائش گاہ نہیں ہوگا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیٹومخالف ٹرمپ اگلے ماہ اسکے اجلاس میں شریک ہونگے!
بادشاہ چارلس۲۰۰۳ء سے کلیرنس ہاؤس میں مقیم ہیں۔ وہ اپنی دادی ملکہ ایلزبتھ، دی کوئین مدر کے انتقال کے بعد وہاں منتقل ہوئے تھے، جو تقریباً ۵۰؍سال تک اسی رہائش گاہ میں رہی تھیں۔ ستمبر۲۰۲۲ء میں بادشاہ بننے کے بعد انہیں بکنگھم پیلس منتقل ہونے کا حق حاصل تھا، لیکن انہوں نے اپنے شاہی عملے اور گھرانے کو صرف۱۲۰؍ میٹر دور منتقل کرنے سے پیدا ہونے والی غیر ضروری بڑی انتظامی مشکلات سے بچنے کیلئے کلیرنس ہاؤس میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔
بادشاہ چارلس کے ٹیکس سے متعلق کیا انکشاف ہوا؟
بادشاہ چارلس نے مالی سال۲۰۲۴ء۔ ۲۵ء میں ۱۲ء۹؍ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا، تاہم، ٹیکس کی مکمل تفصیلات یا تقسیم (Breakup) جاری نہیں کی گئی۔ اس خطیر رقم کی ادائیگی کے باعث بادشاہ چارلس برطانیہ کے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ قانون کے تحت نہ بادشاہ اور نہ ہی پرنس آف ویلز پر ٹیکس ادا کرنا لازمی ہے، لیکن۱۹۹۳ءمیں ونڈزر کیسل میں آگ لگنے کے بعد عوامی ردِعمل کے پیش نظر، ملکہ ایلزبتھ دوم اور اس وقت کے شہزادہ چارلس نے رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی یورپ میں شدید گرمی، کئی ممالک میں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچا
یہ بھی بتایا گیا کہ:بادشاہ چارلس نے مالی سال ۲۰۲۳ء۔ ۲۴ءمیں ۱۱ء۷؍ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیاجبکہ شہزادہ ولیم نے اسی مدت میں ۸ء۳۴؍ ملین پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔ ۲۰۲۲ء میں بادشاہ چارلس کے تخت نشین ہونے اور شہزادہ ولیم کے پرنس آف ویلز بننے کے بعد سے، باپ اور بیٹے کی مجموعی ٹیکس ادائیگی۵۰؍ ملین پاؤنڈ سے زائد ہو چکی ہے۔