Updated: January 09, 2026, 4:21 PM IST
| New Delhi
پرپلیکسٹی اے آئی کے سی ای او اروند سرینواس نے ایک پوڈکاسٹ میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں رائج پرجوش بیانیے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی میں اب تک انسانی تجسس جیسی بنیادی صلاحیت موجود نہیں۔ ان کے مطابق، اے آئی مسائل حل کرنے میں تو مؤثر ہے، مگر بامعنی سوالات خود سے پیدا کرنا اب بھی انسانوں کا امتیاز ہے۔ اور یہی انسانوں کی طاقت ہے۔
پرپلیکسٹی سی ای او اروند سرینواس۔ تصویر: ایکس
جب زیادہ تر ٹیک انڈسٹری مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صلاحیتوں کی تعریف میں مصروف ہے، اس کے برعکس اروند سرینواس نے اس رجحان پر محتاط تنقید پیش کی ہے۔ مصنف اور کاروباری شخصیت پرکھار گپتا کے ساتھ ایک پوڈکاسٹ گفتگو کے دوران، انہوں نے مشین کے ’’تجسس‘‘ کے تصور پر سوال اٹھایا۔ اروند سرینواس نے کہا کہ ’’کیا اے آئی نے کبھی خود کوئی سوال پیدا کیا اور پھر اسے حل کرنے کی کوشش کی؟ نہیں۔‘‘ ان کے مطابق، انسان کا تجسس ہی ہے جو اسے مفروضوں پر غور کرنے اور بنیادی سوالات اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تک کوئی بھی اے آئی نظام محض تجسس کی بنیاد پر بنیادی سوالات اٹھانے کی صلاحیت نہیں دکھا سکا، اور یہی مصنوعی اور حیاتیاتی ذہانت کے درمیان ایک واضح حد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اورنگ آباد میں امتیاز جلیل کی کار پر حملے کی کوشش
ان کے خیالات کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اگرچہ اے آئی مسائل حل کرنے، حلوں کو بہتر بنانے اور نتائج کی توثیق میں مہارت رکھتی ہے، تاہم اس میں انسانی تجسس اور بامعنی سوالات تخلیق کرنے کی وہ صلاحیت موجود نہیں جو مسئلہ حل کرنے کے عمل کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہوتی ہے،اور جس کی نقل مشینیں ابھی تک نہیں کر سکتیں۔ اروند نے مزید کہا کہ اگرچہ بعض کاموں میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے، مگر ’’اے آئی انسانوں کو موجودہ مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، یہ خودمختار طور پر مسئلے شناخت کر کے حل کرنے والی ذہانت سے بالکل مختلف ہے۔‘‘ ان کے مطابق، برتری انسان کے پاس ہی رہے گی کیونکہ مسئلے کی نشاندہی ابتدا میں انسان ہی کرتا ہے۔ پوڈکاسٹ میں اے آئی انفراسٹرکچر کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آن ڈیوائس انٹیلی جنس میں تیز رفتار پیش رفت آج کے ڈیٹا سینٹر پر مبنی ماڈلز میں خلل ڈال سکتی ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’ڈیٹا سینٹرز کیلئے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر انٹیلی جنس کو براہِ راست ڈیوائس پر موجود چپس میں مقامی طور پر شامل کر لیا جائے، تو پھر ہر چیز کے لیے مرکزی ڈیٹا سینٹر پر انحصار ضروری نہیں رہے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مستقل برطرفی: کام کی جگہوں کو انتظار گاہ میں بدلنے والا ایک نیا رجحان
توانائی کی ضروریات کے حوالے سے انہوں نے انسانی اور مصنوعی ذہانت کے درمیان فرق کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق انسانی دماغ ایسے ہی کام جدید ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں نہایت کم توانائی پر انجام دیتا ہے۔ یہ فرق صرف حیاتیات کی وجہ سے نہیں، بلکہ تجسس، وجدان اور مفروضوں پر سوال اٹھانے جیسی انسانی خصوصیات سے بھی جڑا ہے۔ اروند سرینواس، جو چنئی سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی نژاد ٹیک انٹرپرینیور ہیں، محض ۳۱؍ سال کی عمر میں پرپلیکسٹی اے آئی کے شریک بانی اور سی ای او ہیں۔ پرپلیکسٹی ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اے آئی کمپنی ہے جسے اکثر چیٹ بوٹس کے میدان میں ایک مضبوط حریف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی کہانی ہندوستان میں طالب علمی کے دنوں سے لے کر دنیا کے نمایاں اے آئی اسٹارٹ اپس میں سے ایک کی قیادت تک کے عزم اور جدوجہد کی عکاس ہے۔