جن پیٹرول پمپوں پر ذخیرہ موجود ہے وہاں موٹر بائیک اور چارپہیہ گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 1:28 PM IST | Osmanabad
جن پیٹرول پمپوں پر ذخیرہ موجود ہے وہاں موٹر بائیک اور چارپہیہ گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔
ریاست کے بیڑ اور عثمان آباد(دھاراشیو) اضلاع میں پیٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت کی اطلاعات ہیں۔ ٹی وی نائن کی رپورٹ کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قلت پڑنے سے عام زندگی اور زرعی کام کاج بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی پیٹرول پمپ پر’نو اسٹاک‘ کی تختیاں لگادی گئی ہیں۔ذخیرہ کم ہونے کی وجہ سے پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں اور لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جالنہ ضلع کے شاہ گڑھ علاقے سے لے کر اطراف کے کئی پٹرول پمپوں پر بھی ایندھن دستیاب نہیں ہے۔ متعدد پیٹر ول پمپوں پر ‘نو اسٹاک’ کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی کمی کے باعث گاڑی چلانے والوں کے لئے بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ جہاں کہیں ایندھن دستیاب ہے، وہاں پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نندوربار: نواپور میں برڈ فلوکا خوف، چکن اور انڈے کی فروخت پر پابندی
پیٹرول اور ڈیزل نہ ملنے پر عوام میں غصہ
عثمان آباد ضلع کے کلمب-ڈھوکی علاقے میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی سنگین کمی سامنے آئی ہے۔ کئی پیٹر ول پمپ ایندھن ختم ہونے کے باعث بند پڑے ہیں، جس سے کھیتی باڑی اور زرعی کام ٹھپ ہو گئے ہیں۔ لوگوں کے سامنے بڑا بحران کھڑا ہو گیا ہے اور اس کمی کا اثر روزمرہ زندگی پر بھی پڑ رہا ہے۔ ایندھن نہ ملنے کی وجہ سے شہریوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
کھیتی باڑی اور مال برداری پر برا اثر
بیڑ ضلع میں گزشتہ۳؍ دنوں سے ڈیزل کی قلت جاری ہے۔ کئی مقامات پر ڈیزل نہ ملنے کے باعث مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ مسافر گاڑیوں کے ڈرائیور بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کو اپنی زرعی پیداوار دیگر علاقوں تک پہنچانے میں بھی دشواری ہو رہی ہے۔ ڈیزل کی شدید کمی کے باعث دیہی علاقوں میں کھیتی باڑی اور مال برداری کا نظام متاثر ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پونے معاملہ: اپوزیشن نے مہایوتی حکومت کو گھیرا، وزیراعلیٰ پر سخت تنقید
انتظامیہ سے سپلائی بحال کرنے کا مطالبہ
اس سلسلے ٹی وی نائن کی رپورٹ کے مطابق کئی مقامات پر ڈیزل دستیاب نہیں ہے، اور جہاں دستیاب ہے وہاں بھی محدود مقدار میں دیا جا رہا ہے۔ ایسے میں طویل سفر کیسے کیا جائے، یہ ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔ ڈرائیور حضرات اب انتظامیہ سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ۳؍ مئی کی صبح کئی پیٹرول پمپ بند پائے گئے، جس سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں پر سپلائی بحال کرنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔