Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرعون کا خنجر خلا سے آئے ’’الکا‘‘ سے تیار کیا گیا تھا: تحقیق میں انکشاف

Updated: June 08, 2026, 9:51 PM IST | Cairo

سائنسدانوں نے قدیم مصر کے مشہور فرعون Tutankhamun کے مقبرے سے ملنے والے پراسرار لوہے کے خنجر کے بارے میں ایک اہم راز سے پردہ اٹھا یا ہے۔ جدید سائنسی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ خنجر عام زمینی لوہے سے نہیں بلکہ خلا سے زمین پر گرنے والے الکا کے لوہے سے تیار کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف قدیم مصریوں کی دھات کاری کی مہارت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ ان کے مذہبی اور ثقافتی عقائد کے بارے میں بھی نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

قدیم مصر کے مشہور فرعون Tutankhamun کے مقبرے سے تقریباً ایک صدی قبل دریافت ہونے والے پراسرار لوہے کے خنجر کے بارے میں سائنسدانوں نے ایک اہم انکشاف کیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق یہ خنجر زمین پر پائے جانے والے عام لوہے سے نہیں بلکہ خلا سے گرنے والے ایک الکا کے لوہے سے تیار کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی خنجر ۱۹۲۲ء میں اس وقت دریافت ہوا تھا جب برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ ہووارڈ کارٹر نے مصر کی مشہور Valley of the Kings میں واقع توتنخمون کے مقبرے کی کھدائی کے دوران بے شمار نوادرات کے ساتھ اسے بھی دریافت کیا۔ خنجر اپنی نفیس کاریگری، سونے کے ہینڈل اور کرسٹل سے مزین پومل کی وجہ سے ابتدا ہی سے ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دہائیوں تک ماہرین اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہے کہ مصر کے لوہے کے دور سے کئی صدیاں پہلے اتنا اعلیٰ معیار کا لوہے کا ہتھیار کیسے تیار کیا گیا۔ اب جدید سائنسی تحقیقات نے اس معمہ کو بڑی حد تک حل کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل کشیدگی:خامنہ ای نےکہا ’’صہیونی حکومت کے چند دن باقی ہیں‘‘

محققین نے خنجر کی دھات کا تجزیہ کرنے کے لیے غیر تباہ کن ایکس رے فلوروسینس ٹیکنالوجی استعمال کی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ خنجر میں نکل اور کوبالٹ کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیمیائی خصوصیات زمینی لوہے کے بجائے الکا سے حاصل ہونے والے لوہے میں پائی جاتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ بلیڈ ’’میٹیوریٹک آئرن‘‘ یعنی الکائی لوہے سے تیار کیا گیا تھا، جسے بعض اوقات ’’آسمان سے آیا ہوا لوہا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس دریافت نے اس نظریے کو مضبوط کر دیا ہے کہ قدیم مصری خلا سے گرنے والے دھاتی پتھروں کی اہمیت اور قدر سے بخوبی واقف تھے۔

یہ دریافت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ توتنخمون نے تقریباً ۱۳۳۲؍ سے ۱۳۲۳؍ قبل مسیح کے درمیان حکومت کی تھی جبکہ مصر میں لوہے کو پگھلا کر استعمال کرنے کی باقاعدہ ٹیکنالوجی اس دور کے کئی سو سال بعد سامنے آئی۔ اس زمانے میں لوہے کی اشیا انتہائی نایاب تھیں اور بعض اوقات سونے سے بھی زیادہ قیمتی سمجھی جاتی تھیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ قدیم مصری الکا سے حاصل ہونے والے لوہے کو صرف ایک قیمتی دھات ہی نہیں بلکہ ایک مقدس اور آسمانی تحفہ بھی تصور کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اس دھات سے تیار کردہ اشیا کو مذہبی اور شاہی اہمیت حاصل تھی۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مصری توتنخمون کے دور سے بہت پہلے بھی الکائی دھات استعمال کر رہے تھے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ پہلے ہی مصر کے علاقے Gerzeh سے ملنے والے پانچ ہزار سال قدیم موتیوں کی شناخت کر چکے ہیں، جو الکا کے لوہے سے تیار کیے گئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم مصری کاریگر لوہے کو پگھلانے کی ٹیکنالوجی ایجاد ہونے سے بہت پہلے الکائی دھات کو اکٹھا کرکے اسے شکل دینے کی مہارت رکھتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹ کو یورپی پریس پرائز ۲۰۲۶ء تفویض

محققین کے مطابق توتنخمون کا خنجر صرف ایک ہتھیار نہیں تھا بلکہ اس کی مذہبی اور علامتی حیثیت بھی بہت اہم ہو سکتی ہے۔ چونکہ یہ دھات آسمان سے آئی تھی، اس لیے غالب امکان ہے کہ اسے شاہی تدفین کے لیے خصوصی طور پر منتخب کیا گیا ہو تاکہ فرعون کو بعد از مرگ زندگی میں بھی ایک مقدس اور طاقتور شے میسر رہے۔ 

واضح ہو کہ توتنخمون کا مقبرہ قدیم مصر کی سب سے اہم آثارِ قدیمہ دریافتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس مقبرے سے ملنے والے ہزاروں نوادرات نے مصری تہذیب، مذہب، فنون اور شاہی روایات کے بارے میں بے شمار معلومات فراہم کی ہیں۔ اب اس خنجر کے الکائی ماخذ کی تصدیق نے قدیم دھات کاری اور انسانی تاریخ میں ماورائے زمینی مواد کے استعمال کے حوالے سے ایک نئی جہت کا اضافہ کر دیا ہے۔ ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود توتنخمون کا یہ ’’خلائی خنجر‘‘ آج بھی قدیم مصر کے سب سے حیرت انگیز اور دلکش نوادرات میں شمار ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK