پائلٹوں کی ایک انجمن نے حکومت اور وزارت ہوابازی سے مطالبہ کیا ہے کہ مسافروں عملے اور طیاروں کی حفاظت کے پیش نظر جنگ زدہ خلیجی ممالک کے علاقوں میں پروازوں کو معطل کیا جائے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi
پائلٹوں کی ایک انجمن نے حکومت اور وزارت ہوابازی سے مطالبہ کیا ہے کہ مسافروں عملے اور طیاروں کی حفاظت کے پیش نظر جنگ زدہ خلیجی ممالک کے علاقوں میں پروازوں کو معطل کیا جائے۔
ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا (ALPA ) نےوزارت ہوا بازی کے سیکریٹری اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا ہے کہ مسافروں عملے اور طیاروں کی حفاظت کے پیش نظر جنگ زدہ خلیجی ممالک کے علاقوں میں پروازوں کو معطل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسافروں، عملے اور طیاروں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہے۔خلیجی خطے کی فضائی حدود جاری جنگ کی وجہ سے بار بار متاثر ہو رہی ہیں۔ بعد ازاں خط میں تین واقعات کا حوالہ دیا گیا جہاں ماضی کی جنگوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران جیسے حریفوں نے شہری طیاروں کو مار گرایا۔ایران ایئر فلائٹ ۶۵۵؍کو۱۹۸۸ء میں امریکہ نے مار گرایا۔ لیبین عرب ایئر لائنز فلائٹ ۱۱۴؍کو۱۹۷۳ء میں اسرائیل نے گرایا۔ یوکرین انٹرنیشنل ایئر لائنز فلائٹ۷۵۲؍ کو۲۰۲۰ء میں ایران نے مار گرایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: اسپتال میں زیر علاج لوکو پائلٹ کی خود کشی
تاہم تینوں ممالک کا دعویٰ تھا کہ ان طیاروں کو غلطی سے حملہ آور میزائل سمجھ لیا گیا تھا۔پائلٹس انجمن نے خلیجی خطے میں کام کرنے والی تجارتی ایئر لائنز پر تشویش ظاہر کی ہے، کیونکہ ان کے پاس تنازعات والے علاقوں میں خطرات جانچنے کے لیے ضروریخفیہ معلومات ، نگرانی کی صلاحیت یا جغرافیائی سیاسی خطرے کی تشخیص کا ڈھانچہ نہیں ہے۔الپا انڈیا نے کہا کہ ’’ جنگی علاقے میں یا اس کے قریب پروازیں چلانا مسافروں، عملے اور طیاروں کی حفاظت کے لیے سنگین اور ناقابلِ قبول خطرہ ہے۔ ہماری رائے میں ایسے فیصلے جان بوجھ کر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہیں۔‘‘ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ایوی ایشن ریگولیٹر فوری طور پر ان خطرات والے علاقوں میں پروازوں کا جائزہ لے کر معطل کر دے، جب تک کہ ایک مرکزی اور مستند خطرے کی تشخیص نہ کر لی جائے، خاص طور پر بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر۔