وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سنیچرکو کہا کہ نیتی آیوگ ملک کی پالیسی سازی کے نظام کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ یہ تعاون پر مبنی وفاقیت کو فروغ دینے، اصلاحات کو آگے بڑھانے اور اس کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 5:02 PM IST | New Delhi
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سنیچرکو کہا کہ نیتی آیوگ ملک کی پالیسی سازی کے نظام کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ یہ تعاون پر مبنی وفاقیت کو فروغ دینے، اصلاحات کو آگے بڑھانے اور اس کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سنیچرکو کہا کہ نیتی آیوگ ملک کی پالیسی سازی کے نظام کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ یہ تعاون پر مبنی وفاقیت کو فروغ دینے، اصلاحات کو آگے بڑھانے اور اس کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم مودی نے ڈاکٹر اشوک کمار لاہڑی کو نائب چیئرمین بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے اور دیگر کل وقتی اراکین کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ مختلف شعبوں میں اختراع اور طویل مدتی حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا’’حکومت نے نیتی آیوگ کی تنظیمِ نو کی ہے۔ اشوک کمار لاہڑی کو نائب چیئرمین بننے پر میری نیک خواہشات۔ ساتھ ہی راجیو گوبا، پروفیسر کے وی راجو، پروفیسر گوبردھن داس، پروفیسر ابھیے کرندی ر اور ڈاکٹر ایم سرینواس کو بھی کل وقتی رکن بننے پر مبارکباد۔‘‘ انہوں نے سبھی کو ان کے دورِ کار کے لیے نیک خواہشات دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مؤثر اور نتائج خیز مدت مکمل کریں۔
وزیرِ اعظم مودی نے لاہڑی سے ملاقات بھی کی اور انہیں نائب چیئرمین بننے پر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ معاشیات اور عوامی پالیسی میں لاہڑی کا تجربہ ہندوستان میں اصلاحات کو مزید مضبوط کرے گا اور ’ترقی یافتہ بھارت‘ کے ہدف کی جانب پیش رفت میں مدد دے گا۔ وزیرِ اعظم نے یقین ظاہر کیا کہ ان کی کوششیں ملک کی پالیسی سازی کے عمل کو مزید متحرک بنائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے:آر ایس ایس کو راہل گاندھی نے ’’راشٹریہ سرینڈر سَنگھ‘‘ قرار دیا
اشوک کمار لاہڑی، جو مغربی بنگال اسمبلی میں بالورگھاٹ کی نمائندگی کرتے ہیں، معاشیات کے میدان میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ حکومت ِ ہند کے ۱۲؍ویں چیف اکنامک ایڈوائزر رہ چکے ہیں اور دہلی اسکول آف اکنامکس، ایشیائی ترقیاتی بینک، بندھن بینک اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی جیسے اداروں میں کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، انہیں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کام کرنے کا بھی تجربہ ہے۔ کولکاتا کی پریزیڈنسی یونیورسٹی کے سابق طالب علم لاہڑی کو ان کی تعلیمی اور پالیسی سے متعلق خدمات کے لیے کافی سراہا جاتا ہے۔