Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولینڈ نے غزہ فلوٹیلا حملے کی تحقیقات شروع کیں، ہند رجب فاؤنڈیشن نے خیرمقدم کیا

Updated: April 25, 2026, 8:09 PM IST | Warsaw

ہند رجب فاؤنڈیشن نے پولینڈ کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے ۲۰۲۵ء میں غزہ جانے والے فلوٹیلا پر حملے کی تحقیقات شروع کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔ تنظیم نے اسے احتساب کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اضافی شواہد بھی جمع کرائے گئے ہیں، جن میں درجنوں جہازوں کی روک تھام اور سیکڑوں افراد کی گرفتاری شامل ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہند رجب فاؤنڈیشن (ایچ آف ایف) نے اعلان کیا ہے کہ پولینڈ کے پراسیکیوٹرز نے اکتوبر ۲۰۲۵ء میں غزہ فلوٹیلا ۲۰۲۵ء کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جسے تنظیم نے ’’احتساب کی طرف ایک اہم قدم‘‘ قرار دیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق، اس نے دو زخمی متاثرین اور پولش پیلسٹینین جسٹس انیشیئیٹو کے ارکان کے ساتھ مل کر اضافی شواہد جمع کرائے ہیں۔ ان شواہد میں ۴۲؍ انسانی امدادی کشتیوں کو روکنے اور ۴۶۲؍ شرکاء، جن میں ۴؍ پولش شہری بھی شامل تھے، کی گرفتاری کی تفصیلات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وینس بینالے کا اعلان،جنگی جرائم کے الزامات والے ممالک مقابلے سے خارج

ایچ آف ایف کا کہنا ہے کہ اس کی قانونی درخواست میں فوجی کمانڈ کے ڈھانچے کا تفصیلی تجزیہ بھی شامل ہے تاکہ ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔ تنظیم سے وابستہ انسانی حقوق کی ماہر نینا پٹیک نے کہا کہ یہ کیس صرف ایک واقعہ تک محدود نہیں بلکہ ’’استثنیٰ کے تصور کو چیلنج‘‘ کرنے کی کوشش ہے۔ اسی طرح ایچ آف ایف کی قانونی کارروائی کی سربراہ نتاشا بارک نے کہا کہ تنظیم بین الاقوامی جرائم کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے اور پولش حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان سے بنی میناشی کمیونٹی کے ۲۴۰؍ یہودی اسرائیل پہنچے، آبادکاری پر تنازع

یاد رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے فلوٹیلا کو روکا گیا اور متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا، جس پر بین الاقوامی سطح پر تنقید سامنے آئی تھی۔ایچ آف ایف کے مطابق اسی معاملے پر برطانیہ میں بھی قانونی کارروائی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ تنظیم نے اشارہ دیا ہے کہ ایک تیسرے ملک میں بھی مقدمہ دائر کرنے کی تیاری جاری ہے، جس سے اس کیس کو عالمی سطح پر وسعت مل سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات آگے بڑھتی ہیں تو یہ بین الاقوامی قانون اور انسانی ہمدردی کے مشنز سے متعلق ایک اہم نظیر قائم کر سکتی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ سے متعلق واقعات پر عالمی سطح پر قانونی دباؤ بڑھ رہا ہے، اور مستقبل میں مزید ممالک اس نوعیت کی تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK