Updated: July 18, 2026, 9:59 PM IST
| Warsaw
۲۰۲۶ء کے پہلے ۶ ماہ کے دوران، پولینڈ میں یوکرینی شہریوں کے خلاف مشتبہ نفرت انگیز جرائم کی ۱۸۰ رپورٹس درج کی گئیں۔ پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اعداد و شمار مبینہ متاثرین کی طرف سے درج کرائی گئی رپورٹس کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ تفتیش کے بعد ثابت شدہ جرائم کو۔ تفتیش کے بعد کتنے معاملات کو باقاعدہ طور پر نفرت انگیز جرائم کے زمرے میں شامل کیا گیا، اس کا ڈیٹا ابھی مرتب کیا جا رہا ہے۔
پولینڈ کے نیشنل پولیس ہیڈ کوارٹرز کے حوالے سے پولش اخبار ’رزیکپوسپولیٹا‘ (Rzeczpospolita) نے رپورٹ کیا ہے کہ ۲۰۲۶ء کے پہلے ۶ ماہ کے دوران، ملک میں یوکرینی شہریوں کے خلاف مشتبہ نفرت انگیز جرائم کی ۱۸۰ رپورٹس درج کی گئیں۔ اخبار نے بتایا کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ان واقعات میں ۳۰ فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو ۲۰۲۶ء کے آخر تک ایسے واقعات کی کل تعداد تقریباً ۳۶۰ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ پورے ۲۰۲۵ء میں ۲۷۵ اور ۲۰۲۴ء میں ۲۶۷ رپورٹس درج کی گئی تھیں۔
پولینڈ کی پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اعداد و شمار مبینہ متاثرین کی طرف سے درج کرائی گئی رپورٹس کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ تفتیش کے بعد ثابت شدہ جرائم کو۔ تفتیش کے بعد کتنے معاملات کو باقاعدہ طور پر نفرت انگیز جرائم کے زمرے میں شامل کیا گیا، اس کا ڈیٹا ابھی مرتب کیا جا رہا ہے۔ ماہرِ سماجیات یاتسک کوہارچِک نے خبردار کیا کہ اصل واقعات کی تعداد ممکنہ طور پر اس سے زیادہ ہے، کیونکہ بہت سے متاثرین خوف کے باعث پولیس کو رپورٹ کرنے سے کتراتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ: چین نے۲۰۲۰ء میں ۲۲ کروڑ ووٹرز کا ڈیٹا چرایا، خفیہ دستاویز عوامی کریں گے؛ چین کی تردید
یوکرینی شہریوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں یہ اضافہ پولینڈ اور یوکرین کے تعلقات میں آنے والی اس بڑی تلخی کے بعد سامنے آیا ہے جو کیف کی جانب سے اپنی ایک اعلیٰ ملٹری یونٹ کا نام دوسری جنگِ عظیم کی یوکرینی مزاحمتی تحریک کے نام پر رکھنے کے فیصلے کے بعد پیدا ہوئی، یہ وہ تحریک ہے جس کا نام تقریباً ایک لاکھ پولش شہریوں کے قتل عام سے جڑا ہوا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی تنازع کے نتیجے میں پولینڈ کے صدر کارول ناویروکی نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے پولینڈ کا سب سے بڑا ریاستی اعزاز واپس لے لیا۔
محققین نے یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ پولینڈ اور یوکرین کو تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف روسی پروپیگنڈے کے ذریعے ان حقیقی سیاسی تناؤ کو مزید بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ’رزیکپوسپولیٹا‘ کی طرف سے نقل کردہ ایک تحقیق کے مطابق، پولینڈ کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران اپریل اور جولائی ۲۰۲۵ء کے درمیان انٹرنیٹ پر ۹۴ ہزار یوکرین مخالف پوسٹس وائرل ہوئیں، جنہیں مجموعی طور پر ۳۲ ملین (۲ء۳ کروڑ) سے زائد انٹرنیٹ صارفین نے دیکھا۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرینی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں: زیلنسکی نے وزیرِ دفاع فیڈوروف کو عہدے سے ہٹایا، عوام سڑکوں پر اترے
پولینڈ میں یوکرینی شہریوں کے خلاف پیش آنے والے کئی نمایاں واقعات نے ملک بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔ ان واقعات میں بیلسکو بیالا (Bielsko-Biała) میں ایک ۵۴ سالہ بس ڈرائیور کا واقعہ شامل ہے جس نے سٹی بس میں دو ۱۱ سالہ یوکرینی لڑکیوں کو زبانی طور پر ہراساں کیا، جس کے بعد اسے حراست میں لے کر قومی بنیاد پر سرِعام توہین کرنے کے الزامات کے تحت جرمانہ عائد کیا گیا۔ دیگر رپورٹ کردہ واقعات میں دارالحکومت وارسا میں تین یوکرینی نوجوانوں پر حملہ اور پوزنان (Poznań) کے قریب یوکرین مخالف بینرز کا آویزاں ہونا شامل ہے۔