شہرومضافات اور اطراف میں مسلسل بارش کے سبب ایک طرف حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے تودوسری طرف شہر میں درختوں کے گرنے، کھلے مین ہول میں گرنے یا پھر دیواروں اور عمارتوں کے گرنے سےجانی و مالی نقصانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
مرین ڈرائیو پر پولیس اہلکار لوگوں کو سمندرکنارے آنے سے منع کررہے ہیں۔ تصویر: سیّد سمیرعابدی
شہرومضافات اور اطراف میں مسلسل بارش کے سبب ایک طرف حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے تودوسری طرف شہر میں درختوں کے گرنے، کھلے مین ہول میں گرنے یا پھر دیواروں اور عمارتوں کے گرنے سےجانی و مالی نقصانات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔محکمہ موسمیات نے بارش اور طوفانی ہواؤں کے چلنے کا یہ سلسلہ ۸؍ جولائی تک جاری رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے ۔اس کے پیش نظر پولیس نے جنوبی ممبئی اور شہر و مضافات کے دیگر ساحلی علاقوں میں طوفانی لہروں اور حادثات پیش آنےکے خطرات کے پیش نظر وہاںشہریوں کے داخلہ کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔
سیاحوں اور تفریح کیلئے آنے والے شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر پولیس نے مرین ڈرائیو، ورلی سی فیس ، پی ڈی پی اور گرگام چوپاٹی کے ساحلوں پر داخلہ کو ممنوع قرار دینے اور آنے والے سیاحوں اور شہریوں کو وہاں سے لوٹنے پر مجبور کردیا ہے ۔اسی طرح دادر،باندرہ ، جوہو ، ورسوااور مڈھ ساحل پر بھی پولیس کا پہرہ بڑھا دیا گیا ہے اور لائف گارڈس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پولیس مذکورہ علاقوں سے سیاحوں اور شہری نوجوانوں کو جہاں ساحلی علاقوں سے ہٹارہی ہے۔ وہیں پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے بھی شہریوں سے شہر و مضافات و اطراف میں طوفانی بارش اور سیلابی کیفیت کے پیش نظر بلا وجہ گھر سے نہ نکلنے کی اپیل کی ہے ۔
محکمہ موسمیات کے ریڈ الرٹ جاری کرنے کے بعد پولیس نے شہریوں سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ بہت ضروری کام سے گھر سے نکلتے وقت بہت احتیاط برتیں ۔ نشیبی علاقوں میں مین ہول سے محتاط ہونے کے ساتھ ساتھ سڑک کنارے درختوں کے اطراف نہ تو پیدل سفر کریں اور نہ ہی گاڑی ان کے قریب رکھیں یا درختوں کے قریب سے گزریں ۔ ٹریفک پولیس بھی ٹریفک کنٹرول کرنے کے علاوہ شہریوں کو مین ہول اور گڑھوں سے محفوظ رکھنے کیلئے بیریکیڈ لگا رہی ہے اور گاڑی چلانے والوں کو ہدایت بھی دے رہی ہے۔
جوائنٹ پولیس کمشنر نظم و نسق منوج کمار شرما نے بتایا کہ ’’ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں ، بلاوجہ نہ صرف ساحلی علاقوں بلکہ کسی اور ضرورت کے تحت بھی گھر سے باہر نہ نکلیں ۔ ساحلی علاقوں میں شہریوں اور سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے وہاں پولیس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور وہاں آنے والے تمام افراد واپس بھیجاجارہا ہے۔‘‘