پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین کی سربراہ کو آج اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ اور ڈی سی پی کےرو برو حاضر ہونے کا حکم ۔ سامیاکورڈے نے اسے آئینی حقوق کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 10:48 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین کی سربراہ کو آج اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ اور ڈی سی پی کےرو برو حاضر ہونے کا حکم ۔ سامیاکورڈے نے اسے آئینی حقوق کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔
حالیہ احتجاجی مظاہروں پر پولیس کی جانب سے پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین کی سربراہ سامیا کورڈے کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ پولیس کے اس طریقۂ کار کو انہوں نے آئینی حقوق کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
’’شوکاز نوٹس کس بنیاد پرجاری کیا گیا ہے‘‘
اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ اور سینٹرل زون ۲؍ کے ڈی سی پی انوراگ جین کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس میں پیپر لیٖک، ایس آئی آر رَد کرنے اور گیانیش کمار کی گرفتاری کے مطالبے کے لئے۴؍الگ الگ مقامات پر احتجاج کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا گیا اور جمعہ ۳۰؍ اکتوبر (آج)کو ماٹونگا پولیس اسٹیشن کی عمارت میںپہلی منزل پر ۳؍ بجے انوراگ جین کے روبرو حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس نوٹس میںسامیا کورڈے کےتعلق سے لکھا گیا ہے کہ ان کا طریقۂ کار اوراحتجاج کیلئے ان کی جانب سے کی جانے والی اپیلوں کے سبب مظاہرین کے جمع ہونے پرنظم ونسق کا مسئلہ پیدا ہوا ۔اس لئے ان کو پابند بنانے کی غرض سے ۵۰؍ ہزار روپے کا بونڈ بھی بھرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مالشيج گھاٹ میں اڈانی کے مجوزہ بجلی منصوبے کو شدید مخالفت کا سامنا
شوکاز نوٹس میں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دینے کےساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہےکہ بغیر معقول وجہ اور تحریری اطلاع کے مقررہ تاریخ کو غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیںہوگی۔
پولیس کے ذریعے شوکاز نوٹس جاری کئے جانے اور آج پولیس اسٹیشن طلب کئے جانے پر سامیا کورڈے نے سخت رد عمل کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ’’نیٹ پیپر لیٖک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی، ادارہ جاتی جوابدہی کا مطالبہ اور تشار گاندھی جیسے ممتاز شہریوں کے ساتھ ’وی دی پیپل آف انڈیا‘ کے بینر تلے پرامن مظاہروں میں شرکت کرنا کیا جرم ہے؟ان کارروائیوں کا قومی دارالحکومت میں کارکنوں کے خلاف پولیس کی حالیہ کارروائی سے موازنہ کرتے ہوئے سامیا کورڈے نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ نوٹس طلباء اورکارکنوں کے خلاف انسدادی قوانین کو ہتھیار بنانے کے ایک منظم ملک گیر نمونے کا حصہ ہے۔آج ممبئی پولیس کو ہم وہی حربے استعمال کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ دہلی پولیس بھی طلبہ رہنما نیہا بورا اور سی جے پی کارکن ابھیجیت دپکے کے خلاف کارروائی اور احتجاج کو روکنے کے لئے نوٹس کا سہارا لے رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کے کھانے پر ۱۶۰؍ روپے خرچ ہوں گے!
’’ممکن ہےآج میں حاضر نہ ہوسکوں‘‘
سامیا کورڈے نے پولیس کےنوٹس کے جواب میں اپنے بچاؤ میں شواہد اورثبوتوں کے یکجا کرنے کے تعلق سے کہا کہ’’ اسی سبب میں آج اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے روبرو شاید حاضر نہ ہوسکوں، تاریخ میں توسیع کی کوشش کی جائے گی تاکہ مکمل تیاری کی جاسکے ۔‘‘
’’آئینی حقوق کے تحفظ کی کوشش جاری رہے گی‘‘
سامیاکورڈے نے یہ بھی کہاکہ’’ممبئی پولیس مجھے بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعہ ۱۲۶؍ کے تحت ۵۰؍ہزار روپےکے بانڈ بھرنے کا نوٹس جاری کر رہی ہے۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ نوٹس ہندوستان کے آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہارِ رائے اور پُرامن اسمبلی کے بنیادی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔نیٹ پیپر لیٖک جیسی ادارہ جاتی خامیوں کے خلاف بولنا، آواز بلند کرنا، حکام سے شفافیت کا مطالبہ کرنااور جمہوری اقدار کے لئے کھڑا ہونا کیا غیر اخلاقی عمل اور جرم ہے؟ مگر مجھے امید ہے کہ پولیس کا یہ انداز پرُامن احتجاج کو دبانے، شفافیت اور عام شہریوں کے حقوق کے لئے لڑنے سے نہیں روک سکے گا۔مجھے ہندوستان کے آئین پر پورا بھروسہ ہے۔ میں قانونی فریم ورک اور مناسب عمل کے اندر اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کی کوشش کروں گی۔‘‘