طلبہ کی مختلف یونین کے لیڈران نے چیتیہ بھومی پر جمع ہوکر اتوار کی دوپہر کو ریلی نکالنے اور جشن فتح منانے کی کوشش کی مگر پولیس نے چیتیہ بھومی جانے نہیں دیا تو انہوں نے نعرے بازی شروع کردی اور پولیس کی سختی کے باوجود وہ شیوسینا بھون سگنل تک مارچ کرتے اور نعرے لگاتے ہوئے بڑھتے رہے۔
طلبہ نعرے لگاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
طلبہ کی مختلف یونین کے لیڈران نے چیتیہ بھومی پر جمع ہوکر اتوار کی دوپہر کو ریلی نکالنے اور جشن فتح منانے کی کوشش کی مگر پولیس نے چیتیہ بھومی جانے نہیں دیا تو انہوں نے نعرے بازی شروع کردی اور پولیس کی سختی کے باوجود وہ شیوسینا بھون سگنل تک مارچ کرتے اور نعرے لگاتے ہوئے بڑھتے رہے ۔ اس کا مقصد یہ بتایا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے باوجود یہ ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئی ہے، یہ تو پہلی منزل تھی، سنگھرش آگے بھی جاری رہے گا۔
اس تعلق سے آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے عہدیدار اور ممبئی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہروں میں پیش پیش رہنے والے عامر قاضی نے کہا کہ اتوار کو ہم لوگوں نے جشن فتح منایا ، حالانکہ ہمیں چیتیہ بھومی تک نہیں جانے دیا گیا مگر ہم سب نے ہاتھوں میں بابا صاحب کا آئین لے کر یہ عہد کیا ہے کہ ابھی لڑائی جاری رہے گی، دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس کی پہلی منزل تھی۔
یہ بھی پڑھئے: رمیش مہاترے کا کارپوریٹر کا عہدہ منسوخ کرنے کیلئے میونسپل کمشنر کو خط
ان سے یہ پوچھنے پر کہ آگے سنگھرش جاری رکھنے کا کیا طریقہ ہوگا تو انہوں نے بتایا کہ اب ہال میں اور علاقوں میں میٹنگیں کی جائیں گی اور طلبہ اور نوجوانوں کو یہ بتایا جائے گا کہ جس طرح آپ نے تعلیم اور پیپر لیک کے معاملے میں اپنے سنگھرش سے حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا اور بڑی کامیابی حاصل کی ہے ،اسی طرح ہر مسئلے اور اپنے حق کے لئے تیار رہنا ہے۔ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جہاں زیادتی کی جائے، آپ کے آئینی حقوق پامال کئے جائیں یا آپ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جائے تو یہی سب سے اہم راستہ ہے اور ایک ہوکر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسے تمام طلبہ اور نوجوانوں نے عملی طور پر ثابت کیا ہے۔ اس لئے اب بیٹھنے کا نہیں بیدار رہنے اور اس حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے رہنے کا وقت ہے جس نے آپ کو میدان میں آنے پر مجبور کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: پردھان کے استعفے کے بعد کانگریس کا ’وکٹری مارچ‘
ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن کے عہدیدار تبریز سید نے کہا کہ طلبہ اور نوجوانوں نے اپنے سنگھرش سے تاریخ لکھ دی ہے مگر یہ سنگھرش یہیں تک محدود نہیں ہے۔سنویدھان نے جو ہمیں حق دیا ہے اسے حاصل کرنے کے لئے آئندہ بھی ہم سب اپنی کوشش جاری رکھیں گے اور نوجوانوں کو بیدار کریں گے۔
سمتا کلا منچ کی ذمہ دار سورنا نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے جنترمنتر ہی نہیں ممبئی اور دیش کے دوسرے حصوں میں جو کارنامہ انجام دیا ، لاٹھیاں کھانے اور بھوکے پیاسے رہ کر جو جنگ جیتی ہے وہ تاریخ کا سنہرا باب بن گیا ہے۔