انتخابی حلف نامے میں غلط معلومات دینے اوردیگر الزامات کی شکایت پرریاستی الیکشن کمیشن نے کے ڈی ایم سی کے کمشنر کو مکتوب روانہ کیا۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 11:39 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli
انتخابی حلف نامے میں غلط معلومات دینے اوردیگر الزامات کی شکایت پرریاستی الیکشن کمیشن نے کے ڈی ایم سی کے کمشنر کو مکتوب روانہ کیا۔
ڈاکٹروں پر حملے کے معاملے میں شندے گروپ سے تعلق رکھنے والے کارپوریٹر رمیش مہاترے کی نااہلی کا معاملہ اب شدت اختیار کرگیا ہے۔ انتخابی حلف نامہ میں مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کرنے اور خاندان کے رکن کی جانب سے جعلی دستاویزات پر غیر قانونی عمارت کھڑی کرنے کے سنگین الزامات کے بعد کارپوریٹر کی نشست منسوخ کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔اس معاملے پر انتظامیہ پر دباؤ بڑھانے کے لئے شکایت کنندہ کلپیش جوشی نے ممبئی کے آزاد میدان میں بھوک ہڑتال کی تھی جس کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے میونسپل انتظامیہ کو مکتوب روانہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: پردھان کے استعفے کے بعد کانگریس کا ’وکٹری مارچ‘
ریاستی الیکشن کمیشن کے انڈر سیکریٹری پردیپ پرب نے اس سلسلے میں کے ڈی ایم سی کے میونسپل کمشنر اور محکمہ شہری ترقی کے جوائنٹ سیکریٹری کو باضابطہ مکتوب ارسال کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے مکتوب میں واضح کیا ہے کہ مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ ۱۹۴۹ ءکی دفعہ ۱۰ ؍کے تحت کسی منتخب کارپوریٹر کو نااہل قرار دینے کا اختیار خود الیکشن کمیشن کے پاس نہیں بلکہ یہ اختیار محکمہ شہری ترقی اور میونسپل کمشنر کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں ہونے والے میونسپل انتخابات کے دوران کوپر وارڈ سے امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی داخل کرتے وقت رمیش مہاترے نے اپنے حلف نامے میں اہم حقائق کو چھپایا تھا۔انتخابی ضابطے کے مطابق ہر امیدوار کو یہ حلف دینا لازمی ہوتا ہے کہ اس نے یا اس کے اہلِ خانہ نے کوئی غیر قانونی تعمیر نہیں کی تاہم شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ مہاترے نے اپنے خاندان سے متعلق حقائق جان بوجھ کر مخفی رکھے۔
عیاں رہے کہ اصل تنازع رمیش مہاترے کے بیٹے پروین مہاترے سے جڑا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے پرانی ڈومبیولی میں زمین کے حقیقی مالکان سے کسی قانونی تعلق کے بغیر سرکاری مہروں، فرضی دستخط اور جعلی ۷/۱۲ ؍ریکارڈ کی مدد سے زمین کے کاغذات میں اپنا نام درج کرایا اور بعد ازاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وہاں آروہی ہائٹس نام کی غیر قانونی عمارت تعمیر کی تھی۔ اس معاملے کی وشنو نگر پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق شکایت درج ہونے کے بعد سے پروین مہاترے مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ادھر شکایت کنندہ کلپیش جوشی کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ۷؍ ماہ سے مختلف سرکاری محکموں کے چکر لگا رہے تھے مگر سیاسی دباؤ کے باعث کارروائی میں مسلسل تاخیر کی جا رہی تھی جس کے بعد انہیں آزاد میدان میں بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: پاورلوم سبسڈی اسکیم کے ۱۵؍ویں کالم پر تنازع برقرار
دریں اثنا کے ڈی ایم سی کے میونسپل کمشنر ابھینو گوئل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن کا مکتوب اور موصولہ شکایات کا باریک بینی سے قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹر کی نااہلی سے متعلق قانون کی تمام دفعات اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مناسب فیصلہ کیاجائیگا۔