پولینڈ کے قانون ساز نے نازی سواستک کے نشان والا اسرائیلی جھنڈا دکھا کر تنازع کھڑا کردیا، انہوں نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پولینڈ کے تل ابیب سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: April 15, 2026, 5:02 PM IST | Warsaw
پولینڈ کے قانون ساز نے نازی سواستک کے نشان والا اسرائیلی جھنڈا دکھا کر تنازع کھڑا کردیا، انہوں نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پولینڈ کے تل ابیب سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔
پولینڈ کے رکن پارلیمان نے پولینڈ کےایوان زیریں میں ایک تبدیل شدہ اسرائیلی جھنڈا دکھایا، جس میں داؤد کے ستارے کی جگہ نازی سواستک کا نشان بناہوا تھا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے پولینڈ کے تل ابیب سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔پولش قانون ساز کونراڈ برکووچ نے سیجم (پولینڈ کی ایوان زیریں) میں تقریر کے دوران یہ تبدیل شدہ جھنڈا دکھایا اور کہا کہ اسرائیل نئی تیسری رائخ( سابق جرمن حکومت) ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور پولینڈ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات توڑ دے۔تاہم اس واقعے پر ایوان میں بعض قانون سازوں نے احتجاج کیا، جسے انہوں نے یہوددشمنی (اینٹی سیمیٹزم) سے منسلک کیا، جبکہ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ یا مغربی کنارے پر جاری قبضے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان پر اسرائیلی حملوں کی۱۷؍ ممالک نے مذمت کی ، کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا
دریں اثناء وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’پولینڈ کی عوامی زندگی میں یہوددشمنی، نفرت، یا نازی جرائم کے متاثرین کی یاد کی بے حرمتی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ بعد ازاں اسپیکر شیمون ہولوونیا نے کہا کہ انہوں نے پارلیمانی قانون دانوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جانچ کریں کہ آیا برکووچ کے بیانات اور تبدیل شدہ جھنڈے نے پولینڈ کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰؍ ہزار جوتے چپل، ایمسٹرڈیم میں غزہ کے بچوں کو یاد کیا گیا
واضح رہے کہ یہ واقعہ پولینڈ میں غزہ میں نسل کشی پر پہلے سے کشیدہ بحث کے دوران پیش آیا۔حال ہی میں کئی یورپی پارلیمانوں (بشمول یورپی پارلیمان) میں اسرائیل پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے، جہاں کچھ ارکان نے اسرائیلی کے ذریعے فلسطینیوں کے قتل عام کی وجہ سے اسے ’’دہشت گرد ریاست‘‘ قرار دیا ہے۔