بی جے پی نے سب سے زیادہ ۹۴؍ فیصد بی ایل اے نامزد کئے جبکہ مہا وکاس اگھاڑی نے اس تعلق سے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 4:11 PM IST | Agency | Mumbai
بی جے پی نے سب سے زیادہ ۹۴؍ فیصد بی ایل اے نامزد کئے جبکہ مہا وکاس اگھاڑی نے اس تعلق سے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔
پیر کو مہاراشٹر میں ایس آئی آر کا آخری دن تھا۔ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے کام کیلئے ۳۰؍ جون سے ۲۹؍ جولائی تک کی مدت مقرر کی تھی لیکن کام کی زیادتی کو دیکھتے ہوئے پہلے اس میں ۸؍ اگست تک کی توسیع کی گئی اس کے بعد ۱۷؍ تاریخ تک مہلت دی گئی۔ اب یہ مدت ختم ہو چکی ہے لیکن اس دوران سیاسی پارٹی کی کارکردگی مایوس کن رہی بلکہ ووٹروں کے معاملے میں ان کی بے رخی دیکھنے کو ملی۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹروں کی رہنمائی اور بی ایل اوز( بوتھ لیول آفیسر) کی کارکردگی پر نظر رکھنے کیلئے سیاسی پارٹیوں سے گزارش کی تھی وہ اپنی طرف سے ہر ایک بی ایل او کیلئے ایک بی ایل اے ( بوتھ لیول ایجنٹ) مقرر کریں تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ رہے کہ ایک مخٰصوص طبقے کے ووٹروں کے نام کاٹ دیئے گئے ہیں۔ حیران کن طور پر بی ایل اے نامزد کرنے کے معاملے میں مہاوکاس اگھاڑی نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جبکہ زعفرانی خیمے نے بڑے پیمانے پر بی ایل اے نامزد کئے۔
یہ بھی پڑھئے:جیسن آرڈے کی موت پر لندن میں ہزاروں افراد کا خراجِ عقیدت، اہل خانہ کا ردعمل
یاد رہے کہ عام ووٹروں میں یہ تشویش تھی کہ ایس آئی آر کے بہانے ایسے لوگوں کے نام ووٹنگ لسٹ سے ہٹا دیئے جائیں گے جو مہایوتی کو ووٹ نہیں دیتے ۔ اسی تشویش کو دور کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے سیاسی پارٹیوں سے گزارش کی تھی کہ وہ اپنے طور پر ہر بی ایل او کے ساتھ ایک بی ایل اے نامزد کریں جو اس کام میں بی ایل او کا تعاون کرے اور عوام کی رہنمائی کرے تاکہ انہیں کوئی دقت نہ ہو لیکن اس موقع کا فائدہ اٹھا کر ووٹروں کو راحت دلانے کے معاملے میں زعفرانی خیمہ آگے دکھائی دیا جبکہ سیکولر فورس اس پیمانے پر دلچسپی نہیں دکھائی جتنی کی توقع کی جا رہی تھی۔ ریاست کے کل ایک لاکھ ۵۳؍ ہزار پولنگ بوتھ پر بی ایل اے نامزد کئے جانے تھے ۔ ان میں بی جے پی نے بازی مار لی اور سب سے زیادہ ۹۴؍ فیصد پولنگ بوتھ پر اس نے بی ایل اے نامزد کئے جبکہ اس کی حلیف شیوسینا (شندے) نے ۶۹؍ فیصد پولنگ بوتھوں پر اپنے بی ایل اے تعینات کئے۔ جبکہ سونیترا پوار کی قیادت والی این سی پی نے صرف ۲۶؍ فیصد پولنگ بوتھوں پر اپنے بی ایل اے نامزد کئے۔ممکن ہے کہ ان پارٹیوں نے ان علاقوں میں اپنے بی ایل اے تعینات کئے ہوں جہاں سے انہیں ووٹ ملنے کی امید ہو۔ اس لئے تینوں پارٹیوں کے اعداد وشمار میں تفاوت نظر آ رہا ہو۔
دوسری طرف مہاوکاس اگھاڑی کی تینوں پارٹیوں میں اس تعلق سے بے رخی نظر آئی۔ ان میں کانگریس نے ۵۲؍ فیصد بی ایل اے نامزد کئے جو کہ مہا وکاس اگھاڑی میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس کے بعد شیوسینا (ادھو ) نے ۴۳؍ فیصد مقامات پر اپنے کارکنان کو بطور بی ایل اے نامزد کیا۔ جبکہ شرد پوار کی این سی پی نے انتہائی کم یعنی صرف ۱۷؍ فیصد مقامات پر ہی بی ایل اے تعینات کئے۔ایم این ایس نے بھی بی ایل اے نامزد کئے تھے مگر صرف ۸؍ فیصد۔ یاد رہے کہ بی ایل اے کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ ووٹروں کی میپنگ سے لے کر فارم بھرنے اور جمع کروانے کے معاملے میں رہنمائی کرے۔ اگر ناموں یا پتوں میں کوئی غلطی ہو تو اسے دور کرنے میں مدد کرے۔ اگر کسی کا نام دو بار درج ہو یا، کسی کا پتہ بدل گیا ہو، یا کوئی ووٹر گزر گیا ہو تو اس تعلق سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے۔ یاد رہے کہ ناموں کی خامیوں کے باعث نام کٹنے کاخدشہ مہا وکاس اگھاڑی کے ووٹروں میں زیادہ تھا لیکن اگر الیکشن کمیشن کے اعداو وشمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان پارٹیوں نے بی ایل اے نامزد کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔