پوپ لیو چہاردہم نے ’’برتری کے فریب‘‘ کو جنگ کا سبب قرار دیتے ہوئے ایران جنگ پر شدید تنقید کی، پاکستان میں جاری مذاکرات کے دوران انہوں نے ایک دعائیہ تقریب کا بھی اہتمام کیا۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 7:04 PM IST | Vatican City
پوپ لیو چہاردہم نے ’’برتری کے فریب‘‘ کو جنگ کا سبب قرار دیتے ہوئے ایران جنگ پر شدید تنقید کی، پاکستان میں جاری مذاکرات کے دوران انہوں نے ایک دعائیہ تقریب کا بھی اہتمام کیا۔
پوپ نے ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں شام کی دعا کی صدارت کی، جبکہ پاکستان میں ایران اور امریکی مندوبین کے مابین مذاکرات جاری ہیں اور ایک نازک جنگ بندی قائم ہے۔اپنے اب تک کے سخت ترین الفاظ میں، پوپ لیو چہاردہم نے ’’برتری کے فریب‘‘ کی مذمت کی، یہ احساس جو ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کو ہوا دے رہا ہے، اور سیاسی لیڈروں سے مطالبہ کیا کہ وہ رکیں اور امن کے لیے مذاکرات کریں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کیخلاف برلن اور میلان میں ہزاروں افراد کا احتجاج
واضح رہے کہ خطے میں علاقائی کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی۔جس کے بعد تہران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ساتھ جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا، اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا۔تاہم پاکستان نے جنگ کے ۴۰؍ دن گزرنے کے بعد ترکی، چین، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مل کر اس ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتے کا جنگ بندی معاہدہ کرانے میں کامیابی حاصل کرلی۔اس معاہدے کے تحت، دونوں فریق نے پائیدار امن کے لیے مذاکرات کرنے اسلام آباد میں ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مذاکرات کامیاب ہو، نہ ہو ہرمز کو کھلوا کر رہیں گے‘‘
بعد ازاں امریکہ میں پیدا ہونے والے تاریخ کے پہلے پوپ نے اپنی دعا میں نہ تو امریکہ کا ذکر کیا اور نہ ہی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا۔پوپ نے مطالبہ کیا، اپنی ذات اور دولت کی بت پرستی ختم کرو!طاقت کا مظاہرہ ختم کرو!جنگ ختم کرو!