Updated: February 09, 2026, 6:02 PM IST
| Lisbon
۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ہونے والے پرتگال کے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سوشلسٹ پارٹی کے معتدل امیدوار اینٹونیو جوزے سگیرو نے تقریباً ۶۶؍ فیصد ووٹ حاصل کر کے واضح فتح حاصل کی اور ملک کے صدر منتخب ہو گئے، جبکہ انتہائی دائیں بازو کے لیڈر اینڈرے وینٹورا نے تقریباً ۳۴؍ فیصد ووٹ حاصل کئے۔ عوامی ووٹنگ کے باوجود شدید طوفانی موسم رہنے کے باوجود لوگوں نے جمہوری عمل میں بھرپور حصہ لیا، جس سے یورپی جمہوری اقدار کی مضبوطی کا پیغام ملتا ہے۔
اینٹونیو جوزے سگیرو۔ تصویر: ایکس
پرتگال کے صدارتی انتخابات ۲۰۲۶ء کے دوسرے مرحلے میں معتدل سوشلسٹ سیاستدان اینٹونیو جوزے سگیرو نے واضح کامیابی حاصل کی ہے اور وہ پرتگال کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ نیشنل الیکٹورل اتھارٹی کے حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق سگیرو نے ۶۶؍ فیصد سے زائد ووٹوں کے ساتھ اپنے مخالف اینڈرے وینٹورا کو شکست دی، جنہوں نے تقریباً ۳۴؍ فیصد ووٹ حاصل کئے۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے تاریخی تھے کہ پچھلے ۲۰؍ سالوں میں پہلی بار سوشلسٹ امیدوار نے صدر کا عہدہ جیتا ہے۔ پرتگال میں صدارتی انتخاب دو مراحل میں ہوا۔ پہلے مرحلے میں سگیرو نے ۳۱؍ فیصد ووٹ لے کر سب سے زیادہ ووٹنگ حاصل کی تھی جبکہ وینٹورا ۵ء۲۳؍ فیصد پر دوسرے نمبر پر رہے، اس لئے دونوں نے دوسرے مرحلے (رَن آف) میں مقابلہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان: اسنیپ الیکشن میں سانائے تاکائچی کی تاریخی فتح، عالمی لیڈران کی مبارکباد
سگیرو، جن کی عمر ۶۳؍ سال ہے، نے اپنی فتح کے موقع پر جمہوریت، اتحاد اور مستقبل پر زور دیا اور کہا کہ وہ پرتگال کے تمام شہریوں کی خدمت کریں گے، چاہے وہ ان کے حامی ہوں یا نہ۔ انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرز نے جمہوری اقدار اور استحکام کیلئے مضبوط پیغام بھیجا ہے۔ اسی وقت اینڈرے وینٹورا نے اپنے حامیوں کی بڑھتی ہوئی حمایت کا اعتراف کیا، اگرچہ وہ صدارتی عہدہ حاصل نہ کر سکے۔ وینٹورا، جو چیگا نامی جماعت کے بانی بھی ہیں، انتہائی دایاں بازو اور شدت پسند موقف کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں پرتگال کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین جیسے چہرے نے رفعت اوزدمیر کو سماجی دباؤ میں مبتلا کر دیا
انتخابات کے دوران عوامی شرکت نسبتاً مضبوط رہی، حالانکہ ملک کو شدید طوفان اور موسمی خطرات کا سامنا بھی تھا، جس کی وجہ سے چند علاقوں میں ووٹنگ کا شیڈول ایک ہفتہ مؤخر کرنا پڑا۔ اس کے باوجود اہم شہروں میں ووٹرز نے اپنی رائے دہی کا حق استعمال کیا، جو جمہوری عمل میں عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔
پرتگال میں صدر کا عہدہ زیادہ تر نمائشی کردار رکھتا ہے، لیکن اس کے پاس کچھ اہم سیاسی اختیارات بھی ہیں، جیسے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنا، قانون پر ویٹو لگانا اور غیر معمولی سیاسی حالات میں قومی استحکام کو مضبوط بنانا۔ اس لئے اس عہدے کو پسِ پردہ سیاسی اثر بھی سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کے اندر سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے خلاف بحیرۂ روم کی ۲۰؍ سے زائد بندرگاہوں پر ورکرز یونین کی ہڑتال
سگیرو کی کامیابی سیاسی ماہرین کے نزدیک جمہوری نظام کی مضبوطی، مرکزی رائے کی بحالی اور شدت پسند نظریات کے خلاف عوامی ردعمل کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کی جیت خاص طور پر اس لئے اہم ہے کیونکہ چیگا جماعت نے پچھلے پارلیمانی انتخابات میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا، جس سے انتہائی دائیں بازو کی سیاست کا اثر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس بار اگرچہ وینٹورا نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، وہ صدر منتخب نہ ہو سکے، جس سے یورپی ملک میں میانہ رو پالیسیوں اور اتحاد کو فوقیت دینے کا رجحان واضح ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی پیس بورڈ میں شامل نہیں ہوگا: وزیر خارجہ
نئے صدر سگیرو کے عہدے کا آغاز ۹؍ مارچ ۲۰۲۶ء سے ہوگا، جس کے بعد وہ صدر مارسیلو ریبیلو ڈی سوزا کی جگہ لیں گے، جنہوں نے اپنی دو مدت پوری کر لی تھیں۔ سگیرو کی پالیسی کا مرکز جمہوری اداروں کی مضبوطی، معاشی ذمہ داری اور سوشل حقوق کا تحفظ قرار دیا گیا ہے، جس سے پرتگال میں سیاسی استحکام اور عوامی اتحاد کو فروغ ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔