سیشن کورٹ نے شکایت کنندہ کو پولیس کے ذریعہ ضبط شدہ ۱۰؍ لاکھ روپے بانڈ کی بنیاد پر لینے کی اجازت دے دی۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 12:27 PM IST | Mumbai
سیشن کورٹ نے شکایت کنندہ کو پولیس کے ذریعہ ضبط شدہ ۱۰؍ لاکھ روپے بانڈ کی بنیاد پر لینے کی اجازت دے دی۔
سیشن کورٹ نے سائبر فراڈ کے متاثرہ شخص کو راحت دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہےکہ دھوکہ دہی کرکے لی گئی رقم کا جو حصہ تفتیش کے دوران ضبط کیا گیا ہے اسے حاصل کرنے کیلئے شکایت کنندہ کو اتنی ہی رقم بینک گارنٹی کے طور پر دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ متاثرہ شخص ضرورت پڑنے پر اگر متذکرہ رقم واپس کرنے کا بانڈ سائن کردے تو اتنا کافی ہے۔
معاملہ یہ ہے کہ شکایت کنندہ جسٹن پاراکیل سے مبینہ طور پر شیئر ٹریڈنگ کے نام پر دھوکہ دہی کے ذریعہ ۱۳ء۲۰؍ لاکھ روپے اینٹھ لئے گئے تھے۔ تفتیش کے دوران پولیس نے ملزم کا بینک اکائونٹ منجمد کردیا جس میں ۱۰؍ لاکھ روپے موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: مین ہول میں اسلم شیخ کے گرنے کی تفتیشی رپورٹ عام نہیں ہوئی
اس کے بعد جسٹن، مجسٹریٹ کورٹ سے رجوع ہوئے اور درخواست کی کہ جو ۱۰؍ لاکھ روپے پولیس نے ضبط کئے ہیں وہ انہیں دے دیئے جائیں۔ اگرچہ مجسٹریٹ کورٹ نے متذکرہ رقم دینے پر رضامندی ظاہر کردی لیکن یہ شرط بھی لگا دی کہ جسٹن کو ۱۰؍ لاکھ روپے کی بینک گارنٹی دینی ہوگی تاکہ اگر مقدمہ کے بعد ملزم پر جرم ثابت نہیں ہوا اور یہ رقم اسے لوٹانے کا فیصلہ ہوا تو شکایت کنندہ سے وہ رقم حاصل کرنے کا اطمینان کرلیا جائے۔ اس فیصلے کو جسٹن نے سیشن کورٹ میں چیلنج کردیا اور کہا کہ جو شرط عائد کی گئی ہے وہ بہت سخت ہے اور بلاواسطہ انہیں یہ رقم نہ ملنے جیسا ہی ہوگیا۔
سرکاری وکیل نے بھی جسٹن کے خلاف بحث کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اگر ضبط شدہ رقم کو لوٹانے کی بات آجائے تو استغاثہ کے پاس کوئی ٹھوس انتظام ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’پردھان کا استعفیٰ اختتام نہیں، طلبہ کو انصاف ملنے تک جدوجہد جاری رہے گی‘‘
اس بحث پر جج نے کہا کہ شکایت کنندہ کے ذریعہ بانڈ دینے سے استغاثہ کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ جج نے یہ بھی کہا کہ ایسے معاملات میں ضبط شدہ چیز اس کے مالک کو لوٹانے کا فیصلہ عبوری نہیں ہوسکتا اس لئے اسے ۱۰؍ لاکھ روپے کا بانڈ خریدنے پر مجبور کرنا اور مقدمہ کا فیصلہ آنے تک طویل عرصہ کیلئے یہ رقم نہ دینا نامناسب ہوگا۔