طلبہ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش، وزیرتعلیم کے استعفیٰ کے بجائے’نیٖٹ‘ امتحان کا انعقاد کرانےوالی ایجنسی میں ردوبدل، مقدمات بھی درج۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 10:32 AM IST | New Delhi
طلبہ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش، وزیرتعلیم کے استعفیٰ کے بجائے’نیٖٹ‘ امتحان کا انعقاد کرانےوالی ایجنسی میں ردوبدل، مقدمات بھی درج۔
وزیرتعلیم دھر میندر پردھان کے استعفیٰ کیلئے جنتر منتر پر گزشتہ ۳۵؍ دنوں سے جاری احتجاج اور ملک بھر میں مظاہروں کے بیچ مودی حکومت نے وزیرتعلیم کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے طلبہ کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے این ٹی اے میں بڑے پیمانے پر ردوبدل شروع کردی ہے۔ ’’ذرائع ‘‘کے توسط سے میڈیا کو فراہم کی گئی خبروں میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ این ٹی اے کے ۴۷؍ افسران کو برطرف کرکے ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔
آؤٹ سورسنگ کے نظام میں تبدیلی
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اقدام این ٹی اے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کیلئے کیا گیا ہے اور ادارے میں مزید تبدیلیاں بھی جلد کی جائیں گی۔ ایک روز قبل حکومت نے وزارت تعلیم کے ۲؍سیکریٹریوں کا بھی تبادلہ کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے نظام میں تبدیلی کی جائے گی اور ادارے میں جدید تکنیکی اصلاحات نافذ کی جائیں گی تاکہ امتحانات کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ایسا امتحانی نظام تیار کیا جائے گا جس میں پیپر لیک ہونے کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
یہ بھی پڑھئے: پولیس مظالم کے خلاف پٹیشن پر پیر کو سپریم کورٹ میں شنوائی
بھرتیوں کا طریقہ بدلے گا
این ٹی اے نے بھرتیوں کیلئے یو پی ایس سی کے ذریعے اشتہار بھی جاری کیا ہے۔ نئے اہلکاروں کی تقرری یو پی ایس سی کے پرتبھا سیتو پورٹل کے ذریعے کی جائے گی۔ این ٹی اے نے چار سینئر پروفیشنل (جنرل منیجر) کے عہدوں کے لیے براہ راست درخواستیں طلب کی ہیں، جبکہ اسی پورٹل کے ذریعے۱۶؍ینگ پروفیشنلز بھی مقرر کیے جائیں گے۔نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج نے حکومت کو بے بس اور اقدامات کیلئے مجبور کردیاہے۔
’’ایک بدعنوان کی جگہ دوسرا بدعنوان‘‘
ابھیجیت دپکے نے جمعہ کو وزارتِ تعلیم کے سیکریٹری کے تبادلہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت ایک افسرکو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا بدعنوان افسر لارہی ہے۔ایکس پر پوسٹ میں دپکے نے کہاکہ’’حکومت جوابدہی یقینی بنانے کے بجائے بدعنوانی کو انعام دے رہی ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایجوکیشن محکمہ میں نئے تعینات کئےگئے آئی اے ایس افسر پر کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ستارا میں اندوہناک سڑک حادثہ ، ۳؍ لوگوں کی موقع پر ہی موت
’’سنسدچلو‘‘کیخلاف اپیل خارج
دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو مفاد عامہ کی اس پٹیشن پر سماعت سے انکار کر دیا جس میں ۲۰؍جولائی کے پارلیمنٹ مارچ کی تحقیقات این آئی اے یا کسی خصوصی ایجنسی سے کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ قانون کے تحت کسی معاملہ کو این آئی اے کے سپرد کرنا مرکزی حکومت کا اختیار ہے، عدالت کا نہیں۔عدالت نے عرضی داخل کرنے کی ضرورت پر ہی سوال اٹھایا۔