Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولیس مظالم کے خلاف پٹیشن پر پیر کو سپریم کورٹ میں شنوائی

Updated: July 25, 2026, 10:27 AM IST | New Delhi

اسپتالوں  میں زیر علاج کئی مظاہرین کے پیلٹ گن سے زخمی ہونے کی ڈاکٹروں نے بھی تصدیق کی، سیکوریٹی فورسیز کاجھوٹ طشت از بام۔

Police have been accused of using excessive force against protesters on July 20. Photo: INN
پولیس پر ۲۰؍ جولائی کو مظاہرین کے ساتھ غیر معمولی تشدد کرنے کا الزام عائد ہوا ہے۔ تصویر: آئی این این

دہلی پولیس   سپریم کورٹ نے جمعہ کو امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جنتر منتر اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران  پولیس کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف درخواستوں پر۲۷؍ جولائی کو سماعت کافیصلہ کیا ہے۔ اُدھر ریپڈ ایکشن فورس(آر اے ایف) جس پر پیلٹ گن کے استعمال کا الزام ہے اور جو اب تک تردید کررہی تھی، نے ڈاکٹروں کی رپورٹوں میں پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق کے بعد اپنے افسران کے خلاف جانچ شروع کردی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ستارا میں اندوہناک سڑک حادثہ ، ۳؍ لوگوں کی موقع پر ہی موت

طلبہ پر مظالم کا معاملہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کے سامنے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے  پیش کیا اور  کہا کہ مظاہرین کے خلاف مبینہ تشدد سے متعلق دو درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ انہوں نے معاملے کی فوری نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے خلاف ملک بھر میں  پولیس کی  زیادتی کی اطلاعات  موصول ہو رہی ہیں، اس لیے عدالتی مداخلت فوری طور پر ضروری ہے۔ اس سے کورٹ نے اتفاق کیا۔

دوسری  طرف آر اے ایف نے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور پیلٹ گن چلانے کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام نے  بتایا کہ انسپکٹر جنرل کو ہدایت دی ہے کہ وہ احتجاج پر قابو پانے کے دوران فورس کی مختلف ٹیموں کی کارروائیوں کی ترتیب وار جانچ کریں۔

یہ بھی پڑھئے: خلیل شیخ خود کشی: رویندر دھنگیکر اور ان کی اہلیہ کو ضمانت قبل از گرفتاری

 چیف جسٹس کی صفائی پیش کرنے کی کوشش

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے  ان میڈیا رپورٹس کو جمعہ کو ’’لاپرواہی‘‘ پر مبنی  اور’’غلط‘‘ قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی سے متعلق درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر تے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔‘‘ چیف جسٹس نےکہا کہ اس معاملے میں عدالت کے سامنے کوئی باقاعدہ عرضی دائر ہی نہیں کی گئی تھی بلکہ صرف زبانی طور پر معاملہ پیش کیا گیا تھا اس لیے سماعت سے انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK