تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جمعہ سے پریمیم پیٹرول کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ ریٹیل پیٹرول اور کسی بھی قسم کے ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 9:56 PM IST | New Delhi
تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جمعہ سے پریمیم پیٹرول کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ ریٹیل پیٹرول اور کسی بھی قسم کے ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جمعہ سے پریمیم پیٹرول کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ ریٹیل پیٹرول اور کسی بھی قسم کے ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق، دہلی کے ارون روڈ سروس اسٹیشن پر جمعہ سے پریمیم پیٹرول ایکس پی ۹۵؍کی قیمت۸۹ء۱۰۱؍ روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پہلے اس کی قیمت ۸۹ء۹۹؍ روپے فی لیٹر تھی۔ عام پیٹرول کی قیمت ۷۷ء۹۴؍ روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت۶۷ء۸۷؍ روپے فی لیٹر پر برقرار ہے۔ پریمیم ڈیزل ایکس جی کی قیمت بھی۴۹ء۹۱؍ روپے فی لیٹرہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
انڈین آئل کے علاوہ دیگر کمپنیوں بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم نے بھی قیمتوں میں تقریباً اتنا ہی اضافہ کیا ہے۔ طویل عرصے کے بعد کسی بھی قسم کے پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے اس کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ بڑھی ہوئی لاگت کی تلافی کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پریمیم پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
پیٹرول کی بڑھی ہوئی قیمتوں پر کانگریس نے حکومت کو گھیرا، قیمت واپس لینے کا مطالبہ
دوسری طرف سینئر کانگریس رہنما اور راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری نے پریمیم پیٹرول کے۳۵ء۲؍ روپے فی لیٹر تک مہنگا ہونے پر حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس پر منافع خوری کا الزام لگایا ہے۔
تیواری نے مرکز کی مودی حکومت پر تندوتیز حملہ کرتے ہوئے جمعہ کو پیٹرول کی قیمتوں میں کیے گئے اضافے کو منافع خوری اور موقع پرستی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت۱۱۰؍ سے ۱۲۰؍ ڈالر کے درمیان ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے پریمیم پیٹرول پر فی لیٹر دو روپے سے زیادہ کا اضافہ کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دھرندھر ۲‘‘ کا پائریٹڈ ورژن پاکستان پہنچ گیا
تیواری نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی کام کوئی ڈیلر کرتا تو اسے منافع خور اور موقع پرست کہا جاتا، لیکن مرکزی حکومت نے جان بوجھ کر منافع خوری کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی بڑھی ہوئی قیمتیں فوری طور پر واپس لی جائیں۔
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا کی خواتین ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو ۴۳؍رنز سے شکست دی
قابل ذکر ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان ہندوستان میں پریمیم پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پریمیم پیٹرول کی قیمتوں میں۲؍ سے ۳۵ء۲؍ روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ عام پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔