Inquilab Logo Happiest Places to Work

دینی مدارس میں جشن آزادی کی تیاری، طلباء پرچم بنانے میں مصروف

Updated: August 14, 2026, 11:23 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

یہی پرچم لے کر وہ ۱۵؍ اگست کی ریلی میں شرکت کریں گے۔

Madrasa students are seen busy making the national flag. Picture: Inquilab
مدرسے کے طلباء قومی پرچم بنانے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ تصویر: انقلاب
یومِ آزادی کے جشن کے پیش نظر مدارس کے طلباء اساتذہ کی رہنمائی میں ازخود پرچم بنانے میں مصروف ہیں۔ اپنا بنایا ہواپرچم لے کر وہ ۱۵؍ اگست کو جشن آزادی سے متعلق ریلی میں شرکت کریں گے اور آزادیٔ وطن میں علماء اور اسلاف کی عظیم قربانیوں کو عام کریں گے۔ طلباء کے ذریعے کاغذ پرپرچم بنانے کا اہتمام جامعہ مدینۃ المعارف (جوگیشوری ) اور جامعہ عربیہ منہاج السنہ، مالونی کے طلباء کے ذریعے کیا گیا۔ یہ طلباء بڑے انہماک سے مختلف رنگوں کا استعمال کرتے ہوئے پرچم بناتے ہوئے نظرآئے۔ 
اس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ طلباء صرف پرچم ہی نہیں بنارہے ہیں بلکہ اس کی اہمیت اورکس طرح سے اسے مختلف رنگوں اورڈیزائن میں بنایاگیا ہے، اسے بھی انہیں سمجھایا جارہا ہے تاکہ وہ اس کی اہمیت کو محسوس کریں اوریہ بھی ذہن نشین کرلیں کہ یہ محض کپڑے یا کاغذ کے ٹکڑے پربنایا گیا ترنگا نہیں ہے بلکہ یہ ہماری شناخت اور ہمارے ملک کا وقار ہے، اس سے ہمارا سر فخر سے اونچا ہوجاتا ہے۔ 
 
 
جامعہ مدینۃ المعارف کے سربراہ اوررابطہ مدارس کے ترجمان مولانا عبدالقدوس شاکر حکیمی نے بتایا کہ ’’پہلے سے ہی اس کی تیاری کرائی گئی تھی، اساتذہ کی نگرانی میں طلباء کوپرچم بنانے پر لگایا گیا۔ اتفاق سے جمعرات کو آدھے دن کی چھٹی ہوتی ہے، اس لئے طلباء نے مزید اہتمام سے حصہ لیا اور اپنی بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ اپنابنایا ہوا پرچم لے کر طلباء گلی محلوں میں نکالی جانے والی ریلی میں شریک ہوں گے اوراسلاف کی عظیم قربانیوں کو عام کریں گے۔ ‘‘
جامعہ عربیہ منہاج السنہ کے ذمہ دار مولانانوشاد احمد صدیقی نے بتایاکہ’’ طلباء سے پرچم بنوانے یا ان کو ترغیب دلانے کا مقصد انہیں قومی پرچم کی اہمیت سمجھانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بتانا ہے کہ یہ ہماری شان ہے۔ قومی پرچم کے حوالے سے ہم سب یہ عہد کرتے ہیں کہ جس طرح ہمار ےبزرگوں نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے اسے وقار بخشا، ہم بھی یہ عہد کرتے ہیں کہ اس ترنگے کو کبھی جھکنے یا سرنگوں نہیں ہونے دیں گے۔ ‘‘ مولانا کے مطابق’’ اساتذہ کی رہنمائی میں طلباء نے پرچم بنانے میں جوش وخروش سےحصہ لیا اور اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی ثابت کیا کہ دینی مدارس کے طلباء کسی سے کم نہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK