میٹرو ۳؍ کے تعمیری کاموں کی وجہ سے گزشتہ ۹؍سال سے آزاد میدان کے متعدد کلبوں کی بند پچوں کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری جاری ہے ،جس سے کرکٹ کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 12:42 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
میٹرو ۳؍ کے تعمیری کاموں کی وجہ سے گزشتہ ۹؍سال سے آزاد میدان کے متعدد کلبوں کی بند پچوں کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری جاری ہے ،جس سے کرکٹ کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے۔
میٹرو ۳؍ کے تعمیری کاموں کی وجہ سے گزشتہ ۹؍سال سے آزاد میدان کے متعدد کلبوں کی بند پچوں کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری جاری ہے ،جس سے کرکٹ کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی ہے۔
ایم ایم آر ڈی اے نے ممبئی میٹرو ۳؍کی تعمیر کیلئے ۲۰۱۷ء میں متعلقہ کلبوں کی زمینیں حاصل کی تھیں ۔آزاد میدان کے ۲۲؍ کلبوں میں سے ۱۶؍ میٹرو منصوبے سے متاثر ہوئے تھے ۔ ان میں پارسی سائیکلسٹ، بارونیٹ، جان برائٹ، بوہرہ کرکٹرز اور نوروز جیسے نامور کلب شامل تھے ۔ اس گراؤنڈ میں ایک وقت میں ۲۲؍میچ ہوتے تھے لیکن میٹرو پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد اس کی گنجائش تقریباً نصف رہ گئی تھی۔ جن کلبوں نے اپنی پچ واپس حاصل کرنے میں کامیابی پائی ہے ان میں آربی آئی، سینٹ زیویئرز، ینگ فرینڈز یونین، ینگ مسلمز،مسلم یونائیٹڈ، قلعہ کورٹ، بوہرہ کرکٹ کلب اور جان برائٹ شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ کلبوں کی تاریخ ۱۰۰؍ سال سے زیادہ پرانی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے میں ۴ ؍مکانات پر درخت گرا، ایک خاتون زخمی
آزاد میدان صحیح معنوں میں ممبئی کرکٹ کی جائے پیدائش ہے۔ بہت سے اہم ٹورنامنٹ جیسے ہیریس ، گائلس شیلڈ، اسکولی ٹورنامنٹ کے علاوہ کانگا لیگ اور ٹائم شیلڈ اس میدان میں کھیلے جاتے ہیں ۔ ہندوستان کے تاریخ ساز کرکٹر سچن تیندولکر، روہت شرما، اجنکیا رہانے اور ممبئی کے کئی لیجنڈری بلے بازوں جیسے یشسوی جیسوال، پرتھوی شا اور سرفراز خان نے آزاد میدان سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
آزاد میدان میں کلبوں کو واپس دی جانے والی ۸؍ پچوں کی ممبئی کرکٹ اسوسی ایشن (ایم سی اے)کے ایپکس کونسل کے اراکین اور گراؤنڈ کوآرڈینیٹر ندیم میمن اور پرمود یادو نے تزئین و آرائش کی ہے۔ کرکٹ سے محبت کرنے والوں کیلئے ان پچوں کی واپسی بڑی اہم ہے ۔ ممبئکرس کیلئے یہ قابل فخر اور جذباتی لمحہ ہے ۔ندیم میمن کے مطابق ’’ آزاد میدان کی یہ ۸؍ کرکٹ پچز جو میٹرو ریل کے کام کی وجہ سے ۹؍سال سے بند تھیں، ایک بار پھر کھیلنے کے قابل ہو جائیں گی ۔ میٹرو کے کام کی تکمیل کے بعد کرکٹ پچز اور آؤٹ فیلڈز کی بحالی اور ترقی ایک بڑا چیلنج تھا۔ پوری زمین ملبے اور تعمیراتی سامان سے ڈھکی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ کام انتہائی مشکل تھا۔‘‘