Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر کے رضاکار محمد جنید کا یوپی پولیس پر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کا الزام

Updated: July 25, 2026, 6:33 PM IST | Mumbai

جنتر منتر میں طلبہ و نوجوانوں کے احتجاج سے وابستہ رضاکار محمد جنید نے الزام عائد کیا ہے کہ اتر پردیش پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر اہلِ خانہ کو حراست میں لیا اور انہیں احتجاج میں کردار ادا کرنے پر ہراساں کیا۔ پولیس نے ان الزامات پر تاحال کوئی ردِعمل جاری نہیں کیا۔

Muhammad Junaid who distributed food and drink items among the protestors. Photo: INN
محمد جنید نے مظاہرین کے درمیان کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کیں۔ تصویر: آئی این این

نئی دہلی کے جنتر منتر میں طلبہ اور نوجوانوں کی زیرِ قیادت احتجاجی تحریک سے وابستہ رضاکار محمد جنید نے الزام عائد کیا ہے کہ احتجاج میں شرکت کے بعد اتر پردیش پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کے خاندان کے کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔ محمد جنید کے مطابق، پولیس نے چھاپے کے دوران ان کے والد اور کم عمر بھائی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ’’دی للن ٹاپ‘‘ (The Lallantop) کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میرٹھ میں ان کی بہن کے سسر اور دیور کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔ جنید نے مزید الزام لگایا کہ پولیس نے چھاپے کے دوران ان کے خاندان کے آدھار کارڈ اور بینک پاس بکس بھی ضبط کر لئے۔

جنتر منتر پر مظاہرین میں کھانا اور پانی تقسیم کرنے والے رضاکار محمد جنید نے دی للن ٹاپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی یہ کارروائی انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو احتجاج میں ان کے کردار کی وجہ سے خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے۔ 
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے مسوری تھانے کی پولیس ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے تاکہ وہ انہیں پولیس کے سامنے پیش کریں۔ جنید نے سوال اٹھایا، ’’میرا جرم کیا ہے؟ کیا لوگوں کو کھانا اور پانی فراہم کرنا جرم ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیٹ پیپر لیک تنازع: احتجاج کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان عہدے سے مستعفی

محمد جنید سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اتر پردیش پولیس ہمارے رضاکار محمد جنید کے پیچھے پڑی ہے، جو صرف لوگوں کو کھانا اور پانی فراہم کر رہے تھے۔ ‘‘پارٹی نے مزید کہا، ’’اب پولیس اتر پردیش میں انہیں اور ان کے خاندان کو ہراساں کر رہی ہے۔ ہماری ٹیم ان کے مسلسل رابطے میں ہے اور ہم انہیں یا ان کے خاندان کو نشانہ نہیں بننے دیں گے۔ ‘‘بیان میں مزید کہا گیا، ’’اب یہ بات حیران کن نہیں رہی کہ یہ حکومت اختلافِ رائے کا کس طرح جواب دیتی ہے، لیکن ہم ان بزدلانہ ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ پولیس کی ہر غیر قانونی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہوا؛ سونم وانگچک نے الزامات مسترد کئے، احتجاج میں مزید شدت

ان الزامات کے بعد طلبہ تنظیموں نے بھی مذمت کی۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (AISA) کے لیڈردانش علی نے کہا کہ ان کی تنظیم محمد جنید اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم محمد جنید بھائی اور ان کے خاندان کے خلاف ہونے والی غیر قانونی پولیس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بی جے پی حکومت نے ایک بار پھر ان کے خاندان کو نشانہ بنا کر اپنا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ ہم اتر پردیش پولیس، یوگی حکومت اور فاشسٹ بی جے پی حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ‘‘ تاہم، محمد جنید کے ان الزامات پر اتر پردیش پولیس کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK