Updated: August 08, 2026, 10:04 PM IST
| New Delhi
نئی دہلی میں ۱۲؍ ویں قومی یومِ دستکاری کے موقع پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اترپردیش کے معروف بنکر شاہ محمد انصاری کو ’سنت کبیر ہینڈلوم ایوارڈ‘ سے نوازا۔ انہیں یہ اعزاز روایتی اور معدوم ہوتی بُنائی کے فن کے تحفظ، بنارسی بُنائی کی روایت کو آگے بڑھانے اور نئی نسل کے بنکروں کو تربیت دینے پر دیا گیا۔ انصاری نے بنارسی دستکاری کے قدیم ہنر کو محفوظ رکھنے کے ساتھ نوجوانوں کو اس فن سے جوڑنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
شاہ محمد انصاری صدر ہند سے ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
بنارسی بُنائی کے تحفظ اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اترپردیش کے بنکر شاہ محمد انصاری کو قومی سطح پر بڑا اعزاز دیا گیا ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے نئی دہلی میں منعقدہ ۱۲؍ ویں قومی یومِ دستکاری کی تقریب میں انہیں ’سنت کبیر ہینڈلوم ایوارڈ‘ سے نوازا۔ شاہ محمد انصاری کو یہ اعزاز روایتی اور معدوم ہوتی بُنائی کے زمرے میں دیا گیا۔ ان کی خدمات میں بنارسی بُنائی کی قدیم روایت کو برقرار رکھنے کے ساتھ نوجوان بنکروں کو اس فن کی تربیت دینا بھی شامل ہے۔ ان کی کوششوں کو اترپردیش کے مالامال ہینڈلوم ورثے کے تحفظ اور نئی نسل تک اس کی منتقلی میں اہم قرار دیا گیا ہے۔
بنارسی بُنائی محض کپڑا تیار کرنے کا ہنر نہیں بلکہ اترپردیش کے ثقافتی اور فنی ورثے کا اہم حصہ ہے۔ بنارس کی بروکیڈ اور ساڑیوں کو جغرافیائی شناخت کا تحفظ بھی حاصل ہے اور ’بنارس بروکیڈز اینڈ ساڑیز‘ رجسٹرڈ دستکاری مصنوعات میں شامل ہیں۔ اس بُنائی میں پیچیدہ نقش و نگار، زری، بروکیڈ اور روایتی ڈیزائن شامل ہوتے ہیں، جنہیں سیکھنے کے لیے طویل تربیت اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں ماہر بنکروں کی جانب سے نوجوان نسل کو یہ ہنر منتقل کرنا اس روایت کے مستقبل کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
قومی یومِ دستکاری ہر سال ۷؍ اگست کو منایا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت نے ۲۰۱۵ء میں اس دن کو قومی یومِ دستکاری کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ۷؍ اگست، ۱۹۰۵ء میں شروع ہونے والی سوَدیشی تحریک سے وابستہ ہے، جس میں ہندوستانی مصنوعات اور مقامی صنعتوں، خصوصاً دستکاری اور ہینڈلوم کے فروغ پر زور دیا گیا تھا۔ قومی یومِ دستکاری کے موقع پر سنت کبیر ہینڈلوم ایوارڈ اور نیشنل ہینڈلوم ایوارڈ ان بنکروں اور کاریگروں کو دیے جاتے ہیں جنہوں نے غیر معمولی مہارت، جدت، روایتی فن کے تحفظ اور ہینڈلوم شعبے کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ گزشتہ سرکاری تفصیلات کے مطابق سنت کبیر ہینڈلوم ایوارڈ کے ساتھ ۵ء۳؍ لاکھ روپے نقد، سونے کا سکہ، تمرا پتر، شال اور تعریفی سند بھی دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گجرات ہائی کورٹ نے مُندرا میں مسلم عبادت گاہوں کے انہدام پر روک لگادی
مرکزی وزارتِ ٹیکسٹائل کے مطابق ہندوستان کا ہینڈلوم شعبہ دیہی معیشت، ثقافتی شناخت، خواتین کے روزگار اور پائیدار پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس شعبے سے ۳۵؍ لاکھ سے زیادہ افراد وابستہ ہیں، جن میں ۷۰؍ فیصد سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ ہینڈلوم کی اہمیت اس لیے بھی برقرار ہے کہ اس میں انسانی مہارت اور نسل در نسل منتقل ہونے والا فنی علم بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مخصوص ڈیزائن یا بُنائی کی تکنیک کے ساتھ صرف ایک مصنوعات نہیں بلکہ ایک پورا ثقافتی ورثہ محفوظ ہوتا ہے۔ شاہ محمد انصاری کا اعزاز اسی پس منظر میں اہم ہے، کیونکہ روایتی بُنائی کو مشینی پیداوار، جدید بازار اور بدلتی صارف ترجیحات کے بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے۔
نئی نسل کو بنارسی بُنائی کی تربیت دے کر انصاری نے اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی ایک اہم کوشش کی ہے، تاکہ یہ قدیم فن صرف ماضی کی یاد بن کر نہ رہ جائے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے روزگار، ہنر اور ثقافتی شناخت کا ذریعہ بھی برقرار رہے۔