خام مال کی مہنگائی کی وجہ سے منافع متاثر ہورہا ہے، کمپنیاں دیوالی کے بعد قیمتیں بڑھانے پر غور کررہی ہیں مگر اس کی بھی گنجائش محدود ہے کیوں کہ فروخت میں کمی کا اندیشہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 19, 2026, 12:56 PM IST | Agency | New Delhi
خام مال کی مہنگائی کی وجہ سے منافع متاثر ہورہا ہے، کمپنیاں دیوالی کے بعد قیمتیں بڑھانے پر غور کررہی ہیں مگر اس کی بھی گنجائش محدود ہے کیوں کہ فروخت میں کمی کا اندیشہ ہے۔
تیزی سے بڑھتی لاگت کے باعث رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں ایف ایم سی جی کمپنیوں کے منافع پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ خام مال کی قیمتوں میں اضافے سے منافع متاثر ہورہا ہے، ایسے میں کمپنیاں دیوالی کے بعد اشیا کی قیمتیں بڑھانے پر غور کررہی ہیں لیکن انہیں خدشہ ہے کہ اس سے صارفین کی خریداری متاثر ہوسکتی ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے اور دیہی علاقوں میں جہاں لوگ قیمتوں کے معاملے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ستمبر کی سہ ماہی میں خام مال کی لاگت کا دباؤ مزید بڑھ گیا، جس سے گزشتہ سہ ماہی میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار میں آنے والی کمی کا اثر زائل ہوگیا۔ اس کے نتیجے میں کمپنیوں کے منافع کی شرح متاثر ہوئی، حالانکہ تہواروں کے موسم میں صارفین کی مانگ برقرار رکھنے کے لیے کمپنیوں نے لاگت میں اضافے کا کچھ بوجھ خود برداشت کیا۔
’گرانٹ تھورنٹن بھارت‘ کے پارٹنر اور کنزیومر انڈسٹری کے سربراہ نوین مالپانی نے کہا کہ مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافہ یکساں نہیں رہا تاہم خام تیل سے وابستہ مصنوعات، پیکنگ کا سامان، پام آئل اور چینی کی قیمتیں کمپنیوں کے لیے بڑے مسائل بن کر ابھری ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’’روپے کے حساب سے ستمبر میں پام آئل کی قیمتیں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً۲۱؍ فیصد زیادہ تھیں، جبکہ ماہانہ بنیاد پر۸؍ فیصد کمی کے باوجود چینی کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً۱۸؍فیصد زیادہ رہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:چھ ماہ تک کے بچوں کے لیے غذا میں سوکروز اور فرکٹوز شامل کرنے پر پابندی کی تیاری
مالپانی کے مطابق قیمتوں میں اضافے اور کام کاج میں بہتری کے ذریعے لاگت کی بڑھتی ہوئی شرح کی پوری تلافی نہیں ہوپارہی ہے، جس سے کمپنیوں کے عملی منافع پر دباؤ پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’نتائج کے اعلان سے پہلے تجزیہ کاروں کے اندازوں میں بڑی صارفین کی اشیائے ضروریہ بنانے والی کمپنیوں کے ایک گروپ کے عملی منافع کی شرح میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً۴۵؍بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ بعض اندازوں کے مطابق، زیر جائزہ کمپنیوں میں یہ کمی۱۵۰؍بیسس پوائنٹس تک ہوسکتی ہے۔‘‘ کم قیمت والی اشیا تیار کرنے والی کمپنیوں کیلئے قیمتوں میں زیادہ اضافہ کرنے کی گنجائش بھی محدود ہے کیونکہ اس سے صارفین کی قوت خرید متاثر ہوسکتی ہے۔ ایسے میں منافع برقرار رکھنے اور مانگ کو نقصان سے بچانے کیلئے لاگت پر قابو پانا، خریداری کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا اور قیمتوں میں سوچ سمجھ کر تبدیلی کرنا اہم ہوگیا ہے۔
پارلے پروڈکٹس کے چیف مارکیٹنگ افسر مینک شاہ نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ایف ایم سی جی صنعت کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ صورتحال یقیناً تشویش ناک ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ کمپنیاں فوری طور پر قیمتیں بڑھانے کے بجائے کام کاج میں بہتری اور اخراجات میں کمی کے ذریعے خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا کچھ بوجھ خود برداشت کرنے کی کوشش کررہی ہیں، تاکہ منافع کی شرح پر پڑنے والے جھٹکے کو کم کیا جاسکے۔شاہ کے مطابق شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں مانگ مضبوط بنی ہوئی ہے، کیونکہ کمپنیوں نے لاگت میں ہونے والے پورے اضافے کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ تہواروں کا موسم ختم ہونے کے بعد زرعی اجناس کی قیمتوں اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیا کی قیمتوں میں اضافے پر غور کیا جاسکتا ہے۔