اتر پردیش میں۱۲؍ ہزار سے زائد وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن منسو خ کردیا گیا ہے، حکام کے مطابق یہ کارروائی بنیادی طور پر ڈاٹا انٹری میں نقص اور نامکمل دستاویزات کی وجہ سے کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 5:04 PM IST | Luckhnow
اتر پردیش میں۱۲؍ ہزار سے زائد وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن منسو خ کردیا گیا ہے، حکام کے مطابق یہ کارروائی بنیادی طور پر ڈاٹا انٹری میں نقص اور نامکمل دستاویزات کی وجہ سے کی گئی ہے۔
اتر پردیش میں وقف جائیدادوں کے ڈیجیٹلائزیشن کے دوران ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ ’’امید‘‘ پورٹل پر اپ لوڈ کردہ تقریباً ایک لاکھ وقف جائیدادوں کے ریکارڈ کے آڈٹ کے بعد۱۲۰۰۰؍ سے زائد رجسٹریشن کو خارج کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی بنیادی طور پر ڈاٹا انٹری میں نقص اور نامکمل دستاویزات کی وجہ سے کی گئی ہے۔ بعد ازاں ذرائع کے مطابق منسوخ شدہ رجسٹریشن کی فہرست میں سب سے زیادہ تعداد لکھنؤ (۱۱۱۴؍) میں ہے، جس کے بعد بجنور (۱۰۰۳؍) اور سہارنپور (۹۹۰؍) کا نمبر آتا ہے۔ جبکہ دیگر اضلاع میں بارہ بنکی (۵۷۷؍) اور امروہہ (۸۵؍) شامل ہیں، جب کہ باغپت (۶۰؍) اور بریلی (۷۰؍) میں نسبتاً کم معاملات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: گڑھ پور میر تحصیل میں ایک اور مزار مسمار
بورڈ کے ایک رکن کے مطابق متاثرہ جائیدادوں میں چھوٹی مساجد کی زمین سے لے کر بعض اضلاع میں۳۰۰؍ ایکڑ سے زائد رقبے والے بڑے قبرستان بھی شامل ہیں۔دریں اثناء آڈٹ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ منسوخی قبرستانوں کے معاملات میں ہوئی ہے، جس کے بعد مساجد کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مدارس، عیدگاہ، امام بارگاہ، درگاہ اور کچھ رہائشی و تجارتی جائیدادیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: متضاد تفتیش اور کمزور شواہد کی بنا پر مالیگاؤں دھماکوں کے ملزمین بری ہوئے
بعد ازاں وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ پورٹل پر رجسٹریشن کا کام ابھی جاری ہے اور اس کی آخری تاریخ۶؍ جون ۲۰۲۶ء مقرر کی گئی ہے۔جبکہ جن رجسٹریشن کو خارج کیا گیا ہے، انہیں اب۵؍ جون تک درست معلومات اور مکمل دستاویزات کے ساتھ تمام تفصیل دوبارہ اپ لوڈ کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ اتر پردیش سنی وقف بورڈ کے ماتحت ریاست میںایک لاکھ ۲۶؍ ہزار سے زائد وقف ادارے ہیں۔ یہ پورا عمل مرکزی حکومت کے’’امید‘‘ پورٹل کے ذریعے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز جون ۲۰۲۵ء میں وقف جائیدادوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنے اور انتظام میں شفافیت لانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ وقف (ترمیمی) ایکٹ۲۰۲۵ء کے تحت اس پورٹل پر رجسٹریشن لازمی کر دی گئی ہے، جو۵؍ اپریل سے نافذ العمل ہے۔ واضح رہے کہ ابتدائی طور پر اس اندراج کی آخری تاریخ ۶؍ دسمبر۲۰۲۵ء تھی،جس میں وقف ٹریبونل کی ہدایت پر۱۰؍ دسمبر۲۰۲۵ء میں مزیدچھ ماہ کی توسیع کردی گئی۔