ان کےمطابق ملک میں سیمی کنڈکٹر کا نظام تیزی سے پھیل رہا ہے اور دیسی چپ اب ملک اور دنیا کے صارفین تک پہنچنے لگی ہے۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 2:02 PM IST | Agency | New Delhi
ان کےمطابق ملک میں سیمی کنڈکٹر کا نظام تیزی سے پھیل رہا ہے اور دیسی چپ اب ملک اور دنیا کے صارفین تک پہنچنے لگی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک میں سیمی کنڈکٹر کا نظام تیزی سے پھیل رہا ہے اور دیسی چپ اب ملک اور دنیا کے صارفین تک پہنچنے لگی ہے۔
مودی نے جمعرات کو یہاں سیمی کون انڈیا۲۰۲۶ءکے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح کیا اور کہا کہ سیمی کنڈکٹر شعبے کے دن بہ دن بڑھنے سے ملک میں جدت طرازی، سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور صنعت سے اس سیمی کنڈکٹر مشن سے جڑنے کی اپیل کی۔ سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے مشن کے دوسرے مرحلے کے لئے۵ء۱۳؍ ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھئے:پیشگی ٹپ کیلئے گمراہ کرنے پر ریپیڈو پر۱۰؍ لاکھ روپے جرمانہ
وزیراعظم نے کہا کہ۲۰۲۲ءمیں شروع ہونے والا سیمی کون انڈیا کا سفر اب پالیسی اور منصوبے سے آگے بڑھ کر پائلٹ لائن سے ہوتے ہوئے تجارتی پیداوار تک پہنچ گیا ہے۔ موہالی اور سورت میں دو نئے پلانٹوں میں تجارتی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر کا پورا نظام تیار کرنے کیلئے چپ ڈیزائن، سامان کی تیاری اور جانچ کی صلاحیت ضروری ہے۔ دنیا کو مینوفیکچرنگ کے لئے نئی اور قابل بھروسہ جگہ کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور ہندوستان اس کے لئے خود کو مسلسل تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہر وہ قدم اٹھا رہا ہے جو ہمیں سیمی کنڈکٹر صنعت کے لئے ایک پسندیدہ جگہ بناتا ہے۔ کچھ سال پہلے ہی ملک کے آئین کے۷۵؍ سال پورے ہوئے ہیں۔ ایسا ملک جب ایک اہم صنعت میں آگے بڑھتا ہے تو اس سے پوری دنیا کی سپلائی چین کو طاقت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج جب سپلائی چین کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے تب تو اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان میں ہو نے والی اس ترقی کو ہمیں اس وسیع نقطہ نظر سے بھی دیکھنا ہے۔‘‘
انجینئرنگ کی صلاحیتوں کا ذکر
وزیراعظم نے ہندوستان کی انجینئرنگ کی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چپ ڈیزائن کے لئے ایک لاکھ انجینئرنگ کے طلبہ کو تربیت دینے کا ہدف رکھا گیا ہے جن میں۷۰؍ ہزار کو تربیت دی جا چکی ہے۔