اسے قتل کے جرم میں عمر قیدکی سزا سنائی گئی تھی، مفرور قیدی ٹیچر بنا اور سرکاری ملازمت مکمل کرکے سبکدوش بھی ہوگیا۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 12:08 PM IST | Agency | Hyderabad
اسے قتل کے جرم میں عمر قیدکی سزا سنائی گئی تھی، مفرور قیدی ٹیچر بنا اور سرکاری ملازمت مکمل کرکے سبکدوش بھی ہوگیا۔
تلنگانہ میں جیل انتظامیہ کی لاپروائی کے نتیجے میں پرول پر رہا ہونے والا ایک قیدی اپنی عمر قید کی سزا پوری کئے بغیر ۴۰؍سال تک باہر رہا۔ اس دوران وہ سرکاری استاد بنا، ’بہترین استاد‘ کا ایوارڈ حاصل کیا اور ریٹائر بھی ہو گیا۔آئیے جانتے ہیں یہ معاملہ کیا ہے۔ دی پائنیرکی رپورٹ کے مطابق ورنگل میں ۱۹۸۳ء میں ہوئے قتل کے معاملے میں سندولا ویرانّا نامی شخص کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اس نے چھ ماہ جیل میں سزا کاٹی اور پرول کی درخواست کی ،جسے منظور کرتے ہوئے کورٹ نے حکم دیا کہ وہ۳۰؍دسمبر تک جیل لو ٹ جائے، لیکن اس نے پھر پرول بڑھانے کی درخواست کی جس کے بعد اسے ۱۸؍ مارچ ۱۹۸۴ء تک جیل میں واپس آنے کا حکم دیا گیا۔لیکن وہ واپس نہیں لوٹا اور روپوش ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: ۳۱؍حلقوں میں بی جے پی کی جیت پر سوال
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد وہ۴۰؍ سال سے زیادہ عرصے تک جیل سے باہر رہا۔ اس دوران اس نے سرکاری استاد کے طور پر ملازمت کی،۲۰۰۴ء میں اسے ’بہترین استاد‘ کا ایوارڈ بھی ملا۔۲۰۱۳ء میں ریٹائر ہوا ۔ آخرکار۱۶؍ مئی۲۰۲۴ء کو ایک اسپیشل ٹاسک فورس نے اسے گرفتار کر لیا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اس شخص کو۱۹۸۳ء میں قتل کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔۱۷؍ دسمبر۱۹۸۳ء کو اسے۳۰؍ دن کیلئے پرول پر رہا کیا گیا۔ بعد میں پرول کی مدت۱۷؍ مارچ۱۹۸۴ء تک بڑھا دی گئی۔ لیکن پرول ختم ہونے کے بعد اس نے۱۸؍ مارچ۱۹۸۴ء کو جیل میں سرنڈر نہیں کیا۔ وہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جیل سے باہر رہا اور۲۰۲۴ء میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد اسے سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’راجستھان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو فوراً ہٹائیں‘‘
قیدی کی اہلیہ نے اس کے خلاف کی گئی کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس نے دلیل دی کہ حکام نے تقریباً۴۰؍ سال کی تاخیر کے بعد کارروائی کی۔ اہلیہ کے مطابق، اس کا شوہر سرکاری استاد کے طور پر کام کرتا رہا۔ وہ۲۰۱۳ء میں ریٹائر ہوا اور۲۰۰۴ میں اسے ’بہترین استاد‘ کا ایوارڈ بھی ملا تھا۔ اہلیہ نے اس حکم کو بھی چیلنج کیا، جس کے تحت اس کے شوہر کی تقریباً۲۷؍ دن کی حاصل شدہ رعایت ختم کر دی گئی تھی اور اسے ۳؍ سال تک پرول اور فرلو دینے سے روک دیا گیا تھا۔ریاستی حکومت نے درخواست کی مخالفت کی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ قیدی کے خلاف کی گئی کارروائی قوانین کے مطابق ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے۔حکومت نے بتایا کہ پرول سے واپس نہ آنے پر پولیس سپرنٹنڈنٹ کو کئی خطوط بھیجے گئے تھے اور بعد میں اسے پکڑنے کیلئے اسپیشل ٹاسک فورس** تشکیل دی گئی۔عدالت نے کہا کہ پرول کی مدت ختم ہونے کے بعد قیدی خود جیل واپس نہیں آیا۔ عدالت کے مطابق اس نے جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی۔