سپریم کورٹ میں سینئر وکیل کلیان بندھوپادھیائے کی زوردار بحث، جیت کا اوسط حذف کئے گئے ووٹوں سے کافی کم۔
EPAPER
Updated: August 27, 2026, 12:01 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
سپریم کورٹ میں سینئر وکیل کلیان بندھوپادھیائے کی زوردار بحث، جیت کا اوسط حذف کئے گئے ووٹوں سے کافی کم۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ۳۱؍ حلقوں میں بی جے پی کے امیدواروں کی جیت کا فرق ایس آئی آر میں ووٹر لسٹ سے حذف کئے گئے افراد کے مقابلے میں نمایاں طو ر پر کم ہونے کا معاملہ بدھ کو زیر بحث آیا۔ترنمول کانگریس کے ایک رکن کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کلیان بندھوپادھیائے نے درخواست دائر کی جس میں بتایا گیا ہے کہ۳۱؍ حلقوں میں ٹی ایم سی کے خلاف بی جے پی کی جیت کا مارجن حذف کیے گئے ووٹوں کی تعداد سے کم ہے۔انہوں نے اسمبلی حلقہ نمبر ۱۴۵؍کی مثال دی جہاں بی جے پی کے امیدوار کی جیت ۴۰۱؍ووٹوں سے ہوئی تھی جبکہ اس حلقہ میں ایس آئی آر کے دوران ۸؍ہزار ۷۸۵؍ووٹ کاٹے گئے۔ انہوں نے ایک اور حلقہ کی مثال دی جہاں بی جے پی امیدوار کی جیت محض ۳۰۱؍ ووٹوں سے ہوئی جبکہ حذف کئے گئے ووٹ کی تعداد کافی زیادہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم میں ’’نو بیگ ڈے‘‘، بالٹی سے تکیہ تک بطور متبادل
اس پر عرضی پرچیف جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ گرچہ’’آپ درخواست دائر کر سکتے ہیں لیکن کیا عدالت اس طرح نئے انتخابات کا حکم دے سکتی ہے؟انہوں نے مزیدکہا کہ ۳۱؍ حلقوں سے متعلق انتخابات کو چیلنج کرنے والی کوئی انتخابی درخواست دائر کی گئی ہے۔اس پربندھوپادھیائے نے جواب دیا کہ کچھ معاملات میں انتخابی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، لیکن سبھی حلقوں میں نہیں۔اس پر جسٹس جوئے مالیہ باغچی نےپوچھا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کئے گئے کتنے لوگوں نے اس کے خلاف اپیل دائر کی ؟اگر کسی نے اپنے نام کو حذف کرنا قبول کرلیا تو یہ بحث محض علمی رہ جائےگی۔
یہ بھی پڑھئے: پٹنہ : ۶؍ سال کا آدتیہ توجہ کا مرکز، مظاہرہ میں شرکت پر پولیس نے حراست میں لیا
جسٹس باغچی نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ۱۰۰؍افراد کے نام حذف کئے گئے اور جیت کا مارجن ۵۰؍ووٹ ہے اور نام حذف کرنے کے خلاف اپیلیں دائر کرنے والے لوگوں کی تعداد ۶۰؍سے ۷۰ء تو حذف کو چیلنج کرنا ہی کافی ہوگا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اگر انتخابی نتیجہ ہمارے فیصلے سے مشروط ہوگا تو ایسے معاملہ میں یہ بات اہم ہوجائے گی۔
اس پربندھوپادھیائے نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن نے اسمبلی وار اپیلوں سے متعلق ڈیٹا فراہم نہیں کیا ۔کمیشن ڈیٹاکوعام نہیں کررہا ہے۔ اس پربنچ نے کہا کہ وہ خود کو صرف ان ۳۱؍ حلقوں تک محدودنہیں رکھے گی اور تمام زیر التواء اپیلوں کی جانچ کرے گی۔